منگل، 16 اپریل، 2024

کیا امام بخاری اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما اللہ نقدی فطرہ نکالنے کے جواز کے قائل تھے؟



بخاری شریف میں باب العض فی الزکوٰۃ میں ہے:

((قال معاذ لاھل الیمن ایتونی بعرض ثیاب خمیص أو لبیس فی الصدقة مکان الشعیر والذرة اھون علیکم وخیر لا صحاب النبی ﷺ))

’’حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل یمن کو کہا کہ بجائے جو اور جوار کے باریک کپڑے اور عام پہننے کے کپڑے صدقہ میں ادا کرو یہ تمہارے لیے آسان ہے اور اصحاب رسول کے لے زیادہ فائدہ مند ہے۔‘‘


                                جائزہ 


پہلی بات: یہ اثر ضعیف ہے. 

 دوسری بات: اس میں ایک بہت بڑا علمی مغالطہ ہے، وہ یہ کہ بعض نقدی فطرہ کے قائلین نے اس اثر کی نسبت مطلقاً بخاری شریف کی طرف کی ہے، جس سے تدلیس کی بو آتی ہے، کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس اثر کو ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے، صحیح سند کے ساتھ اصل کتاب میں ذکر نہیں کیا ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ عنوان کے طور پر بلا سند جو احادیث ذکر کرتے ان میں صحیح اور ضعیف دونوں قسم کی حدیث ہوتی ہیں. 

تیسری بات: یہ ایک صحابی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا اثر ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں آثار صحابہ کو ترجیح نہیں مل سکتی. 

چوتھی بات: امام بخاری رحمہ اللہ نے اس اثر کو کتاب الزکاۃ میں ذکر کیا ہے، صدقہ فطر کے باب میں نہیں، اور جیسا کہ معاذ رضی اللہ عنہ کے اثر سے واضح ہے، کیونکہ اس باب میں یا اس سے قبل یا اس کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے صدقہ فطر کی حدیث ذکر ہی نہیں کی. 

پانچویں بات: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن میں زکات کی وصولی کیلئے بھیجا تھا نہ کہ صدقہ فطر کی وصولی کیلئے. 

چھٹی بات: امام بخاری رحمہ اللہ نے صدقہ فطر کیلئے الگ سے باب قائم کیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: "باب فرض صدقہ الفطر" اور اس باب کے تحت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صدقہ فطر والی مشہور حدیث ذکر کرتے ہیں. 

ساتویں بات: امام بخاری رحمہ اللہ نے صدقہ فطر کے متعلق صحیح بخاری میں نو ابواب قائم کیا ہے:

"باب فرض صدقة الفطر". 

"باب صدقة الفطر على العبد وغيره من المسلمين". 

" باب صاع من شعير". 

"باب صدقة الفطر صاعا من طعام". 

"باب صدقة الفطر صاعا من تمر". 

"باب صاع من زبيب". 

"باب الصدقة قبل العيد". 

"باب صدقة الفطر على الحر والمملوك". 

"باب صدقة الفطر على الصغير والكبير". 

اور کسی ایک باب میں بھی غلہ کے بدلے قیمت نکالنے کا تذکرہ نہیں کیا ہے. 

خلاصہ کلام یہ کہ نقدی صدقہ فطر نکالنے کے جواز کی نسبت امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف کرنا ایک علمی غلطی ہے، اور مغالطہ و تدلیس بھی ہے.


آٹھویں بات: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا اثر کے بارے میں کہا ہےکہ معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات زکات کے مال کے متعلق کہی تھی، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جزیہ کے متعلق کہی تھی. 

یعنی مال کے بدلے قیمت نکالنے کی بات یا تو زکات کے سلسلے میں کہی تھی یا پھر جزیہ کے سلسلہ میں. 

اس اثر کا تعلق صدقہ فطر سے بالکل بھی نہیں. 

اب رہی بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کی، تو بعض لوگ بڑے دعوے سے لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ صدقہ فطر میں نقدی نکالنے کے جواز کے قائل تھے، لیکن شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کسی بھی کتاب میں ایسی صراحت نہیں کی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ وہ صدقہ فطر میں نقدی نکالنے کے جواز کے قائل تھے. 

یہ لوگ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جس قول کا حوالہ دیتے ہیں در اصل وہ قول زکات المال کے بارے میں، صدقہ فطر کے بارے میں نہیں، اور دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے، آئیے سب سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا وہ کلام ملاحظہ فرماتے ہیں جس سے نقدی فطرہ کے جواز کے قائلین استدلال کرتے ہیں، تاکہ آپ پر ان کے استدلال کی حقیقت آشکارہ ہو سکے. 


شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: زکات میں جو لوگ قیمت نکالتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قیمت فقیروں کیلئے زیادہ مفید ہے، کیا زکات جس مال میں فرض ہوئی ہے اس کے بدلے قیمت نکالنا جائز ہے؟ 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا جواب اختصار کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:

بلا ضرورت اور بغیر کسی شرعی مصلحت کے زکات کے مال کے بدلے قیمت نکالنا جائز نہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ کی زکات میں اگر مطلوبہ اونٹ یا بکری نہ ملے تو اس کی جگہ دو بکریاں یا اس کے مساوی قیمت بیس درہم نکالنے کا حکم دیا، مطلقا قیمت نکالنے کو جائز قرار نہیں دیا.... تاہم حاجت اور شرعی مصلحت کی بنا پر زکات کے مال کی جگہ اس کی قیمت نکالنے میں کوئی حرج نہیں، مثال کے طور پر زکات نکالنے والا اپنے باغ کا پھل یا کھیت کا غلہ درہم کے عوض بیچ دے، تو ایسی صورت میں اس کیلئے درہم نکالنا جائز ہوگا، اسی طرح اگر کسی کے پاس پانچ اونٹ ہیں اور اس میں ایک بکری زکات کے طور پر نکالی جاتی ہے، لیکن نہ اس کے پاس کوئی بکریبہے اور نہ ہی کوئی بکری بیچنے والا مل رہا ہے تو ایسی صورت میں بکری کے بدلے درہم نکالنا جائز ہوگا. 

[مجموع الفتاوى (25/ 83)].

سطور بالا سے معلوم یہ ہوا کہ کہ ضرورت و مصلحت کے پیش نظر قیمت نکالنے کی بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے زکات میں کی ہے نہ صدقہ فطر میں، چنانچہ جو لوگ اس قول کو صدقہ فطر پر لاگو کرتے ہیں وہ علمی غلطی کے شکار ہیں اور لوگوں کو مغالطہ دے رہے ہیں. 


اب صدقہ فطر کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ملاحظہ فرمائیں: 

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صدقہ فطر کی ادائیگی اسی طرح کی جائےگی جیسے قسم، ظہار، قتل، رمضان میں روزے کی حالت میں جماع، اور حج کے کفارات کی ادائیگی کی جاتی ہے، ان چیزوں میں کفارہ واجب ہونے کا سبب بدن ہے، اسی طرح صدقہ فطر کے وجوب کا سبب بھی بدن ہے، لہذا ان کفارات کو قیمت کے طور پر ادا کرنا جائز نہی، کیوں کہ اللہ رب العالمین نے فطرہ میں غلہ ہی فرض کیا ہے جیسے کفارہ میں غلہ فرض کیا ہے...... یہ قول دلیل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے.

[مجموع الفتاوى (25/ 73).

نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے صدقہ فطر کے متعلق سوال کیا گیا: کیا کھجور، کشمش، جو، گیہوں اور آٹا صدقہ فطر میں نکالا جا سکتا ہے؟ اور جن قرابت داروں کا نفقہ واجب نہیں کیا انہیں صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے؟ اور کیا صدقہ فطر میں غلہ کے بدلے قیمت دینا جائز ہے؟

مذکورہ سوالوں کے جواب میں شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ نے غلہ کی کسی بھی قسم سے صدقہ الفطر نکالنے کو جائز قرار دیا، اسی طرح رشتہ دار اگر ضرورت مند ہو تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قیمت کے جواز و عدم جواز پر گفتگو ہی نہیں کی.

[مجموع الفتاوى (25/ 69)].


خلاصہ کلام یہ کہ: امام بخاری اور اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما اللہ سے نقدی نکالنے کا جواز ثابت ہی نہیں، نقدی نکالنے کی جواز کی نسبت ان دونوں علما کی طرف کرنا ایک علمی غلطی ہے. 


 واللہ اعلم 

             📝

ابو احمد کلیم الدین یوسف

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ 

جمعہ، 12 اپریل، 2024

صدقۃ الفطر میں غلہ یا قیمت؟ ایک تحقیقی جائزہ




صدقۂ فطر کو اصطلاح شرع میں زکوۃ فطر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے نیز اسے زکوۃ رمضان زکوۃ صوم اور فطرہ بھی کہتے ہیں۔
 صیام رمضان کے خاتمے پر صدقہ فطر فرض کیا گیا ہے۔ جس کے دو بنیادی مقصد بتائے گئے ہیں۔
1️⃣ *اول* : یہ کہ روزہ کی حالت میں بتقاضائے بشریت اگر غلطی اور گناہ کا ارتکاب ہو گیا ہو تو اس سے ان کی تلافی ہو جائے۔
2️⃣ *دوم* :  یہ کی جو لوگ اپنی ناداری اور مفلسی کی وجہ سے اس عمومی تہوار کی خوشیوں میں شریک ہونے کی طاقت نہیں رکھتے اس صدقہ فطر کے ذریعہ ان کا تعاون کر کے ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ عید کے دن کمانے اور رزق کی جستجو سے بے نیاز ہو کر عید کی خوشی میں شامل ہو سکیں ۔
صدقہ فطر قرآن و سنت اجماع امت کی دلیل سے واجب ہے۔ نیز اس کی مقدار صحیح حدیث کی روشنی میں ایک صاع غلہ بتائی گئی ہے۔ جیسا کہ ابو سعید خدری اور  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے روایت ملاحظہ ہو : 
⏺️ عن أبي سعيدٍ الخدريِّ قالَ كنّا نخرجُ إذ كانَ فينا رسولُ اللَّهِ ﷺ زَكاةَ الفطرِ عن كلِّ صغيرٍ وَكبيرٍ حرٍّ أو مملوكٍ صاعًا من طعامٍ أو صاعًا من أقطٍ أو صاعًا من شعيرٍ أو صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من زبيبٍ فلم نزل نخرجُهُ حتّى قدمَ معاويةُ حاجًّا أو معتمرًا فَكلَّمَ النّاسَ على المنبرِ فَكانَ فيما كلَّمَ بِهِ النّاسَ أن قالَ إنِّي أرى أنَّ مدَّينِ من سمراءِ الشّامِ تعدلُ صاعًا من تمرٍ فأخذَ النّاسُ بذلِك. فقالَ أبو سعيدٍ فأمّا أنا فلاَ أزالُ أخرجُهُ أبدًا ما عشت.
• الألباني، صحيح أبي داود (١٦١٦) • صحيح • أخرجه أبو داود (١٦١٦) واللفظ له، وأخرجه مسلم (٩٨٥)۔
⏺️عن سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ : كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ. ( صحیح بخاری [1506] صحیح مسلم [985])
⏺️عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ.
( بخاری [1503])
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہر قسم کے غلہ، جو، کھجور، کشمش اور پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔
 اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع غلہ ، جو اور کھجور زکوۃ فطر میں فرض قرار دیا ہے ۔

  صدقۂ فطر میں قیمت دینا
مندرجہ بالا حدیثوں سے واضح طور سے معلوم ہوا کہ صدقۂ فطر میں اصل غلہ ہے، قیمت نہیں ۔لیکن اگر کوئی غلہ کے عوض قیمت نکالنا چاہے تو کیا صدقۂ فطر ادا ہوگا یا نہیں اس سلسلے میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔
 پہلا قول: 
           زکوۃ فطر میں قیمت دینا جائز ہے یہ قول امام ابو حنیفہ ان کے اصحاب، سفیان  ثوری ،حسن بصری اور عمر بن العزیز کا ہے ۔(المغنی [294/4]،المجموع [71/6]،المحلی [130/6]،مصنف ابن ابی شیبہ [398/2]، فقہ الزکاۃ [948/2])

 دلائل درج ذیل ہیں :
1️⃣ حدیث میں صدقہ فطر کا جو مقصد بیان کیا گیا ہے وہ یہ کہ" طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين" ( ابو داود [1609] باسناد حسن ، الارواء [ 843]) 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کی لغو بات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے .
 وجہ استدلال:   یہ ہے صدقہ فطر میں مساکین کو کھانا کھلانا مقصود ہے تو قیمت سے بھی ادائیگی ممکن ہے نیز اپ کا فرمان "اغنوهم عن السؤال هذا اليوم " ( ضعيف ، الارواء 334/3 )  انہیں آج مانگنے سے بے نیاز کر دو یہ بے نیاز کرنا قیمت اور غلہ  دونوں سے حاصل ہو سکتا ہے بلکہ بسا اوقات قیمت غلہ سے افضل بھی ہو جاتی ہے جب فقیر کے پاس غلہ زیادہ اور دیگر سامان کم ہوں ۔( فقہ الزکاۃ 949/2)
اس کا جواب یہ ہے کہ فقیروں اور مسکینوں کو سب سے زیادہ خوراک کی ضرورت پڑتی ہے نیز"أغنوھم ..."والی روایت ضعیف ہے اگر مان بھی لیں تو دونوں حدیثوں "أغنوھم ..."اور " طعمۃ للمساکین "  کو ملانے کے بعد خوراک والا مفہوم قریب تر ہے ۔
2️⃣  ابو اسحاق السبیعی کا قول "أدركتهم وهم يؤدون في صدقة رمضان الدراهم بقيمة الطعام " ( مصنف ابن ابي شيبة [398/2]  میں نے انہیں پایا کہ وہ رمضان کے صدقہ میں غلہ کی قیمت سے دراہم دیتے تھے.
 
اس کا جواب یہ کہ :
⬅️ ابو اسحاق السبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں ( المختلطین ,  [93] جامع التحصیل للعلائی 108/1).
⬅️ ابو اسحاق السبیعی سے روایت کرنے والے زہیر بن معاویہ ہیں جنہوں نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے ( المختلطین 93)
⬅️ ابو اسحاق السبیعی کا قول" ادرکتہم" سے مراد کون ہیں ؟معلوم نہیں، اگر صحابہ کو مراد لیا جائے تو صحابہ کرام غلہ ہی دیا کرتے تھے جیسا کہ بخاری میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت "کنا نخرج"  سے معلوم ہوتا ہے . 

3️⃣عطاء کے بارے میں منقول ہے " أنه كان يعطي في صدقة الفطر ورقا " ( مصنف ابن ابي شيبة [37-4/38]  بحوالة فقه الزكاة [ 949/2] )
* عطاء بن ابی رباح صدقہ فطر میں چاندی دیتے تھے ۔ 
 
اس کا جواب یہ کہ : 
               جب حدیث رسول کے مقابلہ میں صحابی کا قول و فعل حجت نہیں ہے تو پھر تابعی کا قول و فعل کیسے حجت ہو سکتا ہے؟
دوسری بات یہ ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کا وہ نسخہ جو مکتبۃ الرشد ریاض سے  کمال یوسف کی تحقیق سے [ 398/2 (10372) ] 1409ھ ،نیز دار التاج ، بیروت ، لبنان ط : اول 1409ھ اور ( باب 69 باب في إعطاء الدراهم في زكاة الفكر { حديث 5} 64/3) دارالفکر بیروت لبنان 1414 ہجری میں چھپا ہے اس میں عبارت اس طرح ہے( " عن عطاء أنه كره أن يعطى في صدقة الفطر ورقا " ) یعنی عطاء صدقہ فطر میں چاندی دیے جانے کو ناپسند کرتے تھے ۔
اس سے تو مفہوم بالکل الٹ جائے گا اور یہ عبارت قیمت کے قائلین کے خلاف دلیل بن جائے گی اس لیے قیمت کے قائلین کے لیے ان کا چنداں  مفید نہیں ۔

ان دلائل کے علاوہ قیمت کے قائلین کے مزید کچھ شبہات ہیں مثلا : 
1️⃣ ایک صاع غلہ یا کھجور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بطور کرنسی استعمال ہوتی تھی ۔
جواباً عرض ہے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں بھی کرنسی تھی، مگر آپ ﷺنے صدقہ فطر کو غلہ کے ساتھ مقید کیا، کرنسی کے ساتھ نہیں۔ معلوم ہوا کہ غلہ و خوراک ہی اصل ہے۔ اگر کرنسی اصل ہوتی تو آپ ﷺ کرنسی کے ساتھ مقید کرتے جیسا کہ بہت ساری چیزوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور اگر آپ غلہ کو بھی کرنسی مانتے ہیں تو مانیں، مگر اس کرنسی کو کسی دوسری کرنسی میں تبدیل نہ کریں کیونکہ اسے شریعت نے متعین کیا ہے ۔
2️⃣ ابو سعید خدری اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا اختلاف ایک صاع  یا نصف صاع گیہوں دینے کے بارے میں ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام نے قیمت کا اعتبار کیا ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ایک صاع یا نصف صاع گیہوں دینے کے بارے میں اختلاف کے باوجود ان کا غلہ دینے پر اتفاق تھا نہ کہ کرنسی دینے پر۔

 دوسرا قول :  
           جمہور ائمہ امام مالک و شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صدقہ فطر میں غلہ ہی دیا جائے گا ۔ ( المغنی [295/4]، المجموع [71/6] 
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ قیمت دینا کافی نہ ہوگا اور جب ان سے کہا گیا کہ عمر بن عبدالعزیز قیمت قبول کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ" *لوگ نبی کا قول چھوڑ دیتے ہیں* " اور" فلاں نے کہا "کہتے ہیں جبکہ ابن عمر کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غلہ فرض کیا ہے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے{ اطیعوا  اللہ و الرسول}(آل عمران : 32)  مزید فرمایا کہ لوگ فلاں نے کہا ، فلاں نے کہا ، کہہ کر نبی کریم ﷺ کے طریقے کو چھوڑ دیتے ہیں ۔( المغنی 295/4)
امام ابن قدامہ نے فرمایا: کہ جس نے قیمت دی تو کافی نہ ہوگا ( حوالہ مذکور 👆) 
امام نووی نے کہا: ہمارے نزدیک قیمت دینا کافی نہ ہوگا ( المجموع [ 71/6]
امام ابن حزم نے فرمایا : قیمت کفایت نہیں کرے گی ( المحلی 259/4) 
یہاں پر شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا قول ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا انہوں نے فرمایا: " ہمارے زمانے میں کچھ لوگ عبادات کو اس کی شرعی حالت سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی بہت ساری مثالیں ہیں جیسے صدقۂ فطر کو نبی کریمﷺ نے رمضان کے اختتام پر غلہ سے نکالنے کا حکم دیا تو کچھ لوگ غلہ کے بدلے قیمت نکالنے کا فتوی دیتے ہیں ۔یہ عبادت کو اس کی شرعی حالت سے پھیرنا ہے، کیونکہ صدقہ فطر کا ایک خاص وقت ہے اور وہ ہے لیلۃ العید خاص جگہ ہے جہاں پر نکالنے والا موجود ہو ،خاص مصرف ہے اس جگہ کے مساکین ہیں، ایک خاص نوعیت و صفت ہے ،وہ ہے غلہ ۔ تو اس عبادت کو ان تمام شرعی  اعتبارات سے مقید کرنا ضروری ہے ورنہ وہ عبادت نہ تو صحیح ہوگی اور نہ ہی انسان اس سے برئ الذمہ  ہوگا ۔
اسی طرح ظہار، قسم، نہار رمضان میں جماع کے کفارہ اور صدقہ فطر میں غلہ ہی  ہے تو قیمت نکالنے سے وہ ادا نہ ہوگا کیونکہ یہ منصوص عبادت کو اس کی شرعی کیفیت سے بدلنا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔
 اس بات کو علامہ نے مزید مثالوں اور دلیلوں سے واضح کیا مثلا ہدی، قربانی اور عقیقہ کے بدلے صدقہ کرنا یا ہدی و اضاحی  میں سے غریبوں اور مسکینوں کو نہ کھلا کر اس کی قیمت دینا یہ سب درست نہیں ہے۔ 
رہی بات غریبوں اور مسکینوں کے تعاون کی ،تو ان کی مدد کی جائے نقود کپڑوں اور خوراک کے ذریعہ ،مگر شرعی عبادات کو اس کے وقت اور مکان سے بدلنا جائز نہیں ۔ ( تلخیص: الخطب المنبریہ [ 495-2/496] ۔
 
راجح قول:  صدقۂ فطر میں وہی غلہ دیا جائے جو عام طور پر لوگوں کی خوراک ہو یہی راجح ہے ترجیح کے اسباب مندرجہ زیل ہیں : 
1️⃣ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ فطر میں غلہ ہی فرض کیا ہے جیسا کہ بخاری مسلم اور دیگر کتب حدیث میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر کی روایتیں موجود ہیں ۔
2️⃣ دراہم و دنانیر  عہد نبوی میں بھی موجود تھے پھر بھی آپ ﷺ نے صدقہ فطر کو ایک صاع غلہ  کے ساتھ مقید کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ غلہ ہی صدقہ فطر میں اصل ہے ۔ 
3️⃣ صدقہ فطر متعینہ جنس کی شکل میں فرض شدہ عبادت ہے تو دوسری جنس (نقود وغیرہ) سے نکالنا کافی نہ ہوگا . ( مجالس شہر رمضان 28) 
4️⃣ صدقۂ فطر میں خوراک کے بدلے قیمت نکالنے سے ظاہری شعار کے بجائے پوشیدہ صدقہ بن جاتا ہے (مجالس شہر رمضان 28)
5️⃣ صدقۂ فطر کو مسکینوں کی خوراک بتایا گیا ہے تو خوراک ہی دیا جائے اگر خوراک کے بجائے قیمت دی گئی تو ممکن ہے کہ لینے والا کوئی اور سامان خرید لے جس سے امر تعبدی حاصل نہ ہو ۔
6️⃣ صدقۂ فطر میں اگر قیمت دی جائے تو کس جنس کی ؟کھجور کی ؟یا جو کی؟ کشمش کی یا پنیر کی ؟
اگر جو کی قیمت دی گئی اور لینے والے نے پنیر یا کھجور خرید لیا تو ظاہر سی بات ہے ایک صاع سے کم پائے گا اور صدقہ فطر ایک صاع متعین ہے۔ جب ایک صاع سے کم ہوا تو صدقہ فطر ادا نہ ہوگا ۔کیونکہ عہد رسالت میں بھی مذکورہ اجناس کی قیمت یکساں نہیں تھی جیسا کہ آج بھی یکساں نہیں ہے۔ خود کھجور کی مختلف قسمیں ہیں جن کی قیمتوں میں بہت فرق ہے تو کون سی کھجور کی قیمت دی جائے ؟یا دیگر سامان مثلا کپڑا وغیرہ خرید لیا اور تو غلہ نہ ہوا اور صدقہ فطر میں غلہ ہی مطلوب ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ صدقہ فطر میں غلہ ہی دیا جائے چنانچہ انہوں نے قیمت دینے والوں پر نقد کرتے ہوئے فرمایا کہ قیمت دینا شارع  پر تہمت لگانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ ان کی شریعت نبی ﷺکی شریعت سے زیادہ بہتر اور فقیر و مسکین کے لیے زیادہ سود مند ہے۔ اگر یہ مقصد ہو تو کفر ہے۔ جبکہ ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے۔ لیکن غفلت کی وجہ سے اس طرح کی غلط باتیں کرتے ہیں ۔بہرحال صدقہ فطر میں وہی چیزیں نکالنا جائز ہیں جو شارع نے نصا  بیان کیا ہے اور وہ غلہ ہی ہے ۔ ( مستفاد : جامع تراث العلامہ الالبانی فی الفقہ [ 595/10] 
ان تمام وجوہات کی بنا پر شبہات سے احتراز  کرتے ہوئے صدقہ فطر میں غلہ ہی نکالا جائے کیونکہ حکم رسول بھی وہی ہے اور یقینی بھی وہی ۔ قیمت دینا  کم از کم شک و شبہ سے خالی نہیں ہے ۔۔ واللہ اعلم




   
                                  📝
 فضیلۃ الشیخ رفیع الدین نجم الدین الریاضی حفظہ اللہ
استاذ : جامعہ اسلامیہ دریاباد

بدھ، 11 اگست، 2021

اسلامی حدود رحمت یا زحمت

  

Islamic photos

 اسلام خالق کائنات، مالک ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ ایک عالمگیر اور اعتدال پسند مذہب ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ظلم و زیادتی، فساد و تخریب، دہشت و تشدد، بے حیائی و بے پردگی جیسی مضرات و زیاں کار چیزوں سے اپنے متبعین کو دور رہنے کی تلقین کرتا ہے فرمان الہی ہے { وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاْحِهَا } [ الاعراف: ٥٦] ' درستگی کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ' اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { لا ضرر ولا ضرار} [ سنن ابن ماجہ: ٢٣٤٠] یعنی کسی کو کسی طرح کا نقصان پہنچانا روا نہیں ہے خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اخلاقی ہو یا اقتصادی، جانی ہو یا مالی

             سماج میں امن و عافیت، غمگساری و غم خواری، بھائی چارگی و ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے اور انارکی و بے چینی سے محفوظ رکھنے کے لئے جرائم پر سزا و حدود نافذ کیا ہے مثلاً  زنا، قذف ( بہتان تراشی) سرقہ ( چوری ) شرب خمر ( شراب نوشی ) ارتداد یہ وہ جرائم ہیں جن پر قدغن اور قید و بند لگانا سماج کے صلاح وفلاح اور پاکیزگی کے لئے ناگریز ہے اسی لئے اسلام نے باقاعدہ ان جرائم کے ارتکاب کرنے والوں پر سزا متعین کی ہے


             مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان حدود کی وضاحت کردی جائے تاکہ قارئین کو اس حقیقت کا علم ہو جائے کہ یہی وہ حدود شرعیہ ہیں جن کی تنفیذ سے بہت ساری خرابیوں اور برائیوں کا سدباب کیا جاسکتا ہے اور ہر نفس خیر و عافیت کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے نیز ان نصوص کے نوک قلم پر آ جانے کے بعد یہ امر پوری طرح مترشح ہوجائے گا کہ یہ حدود سوسائٹی و سماج کے لئے مکمل طور پر رحمت کا باعث ہیں نہ کہ زحمت کا

حد زنا :


             اسلام نے ان تمام راستوں کو مسدود کرنے کی کوشش کی ہے جو فتنہ و فساد کا پیش خیمہ و شاخسانہ ہو سکتے ہیں اللہ رب العالمین نے فرمایا { وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيْلَاً} [ الإسراء: ٣٢ ] یہ آیت کریمہ اس حقیقت پر واضح دلیل ہے، پھر بھی اگر کوئی اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو شریعت اسلامیہ اس پر حد جاری کرتی ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے { الزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ] [ النور: ٢] ' زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ '
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب زانی پر مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے حد جاری کیا جاتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور اس جیسے گھناؤنے اور قبیح فعل سے اجتناب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں اور اسلام جو کہ ایک آفاقی مذہب ہے اس کے ہر ہر حکم میں کچھ نہ کچھ راز پنہاں ہے، چونکہ زنا نسل انسانی کے اختلاط و اشتباہ کا ذریعہ بنتا ہے اور الفت و محبت، عزت و ناموس کو ختم کرنے کا باعث بھی ہے، جب کہ نسل انسانی کی حفاظت اور احترام انسانیت اسلام کا طرۂ امتیاز ہے اس لئے غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے شہر بدر بھی کرنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے( راوی حدیث زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) { سمعت النبي صلى الله عليه وسلم یأمر فيمن زني ولم يحصن جلد مائة وتغريب} [ صحيح البخاري: ٦٨٣١] ' کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو تو سو کوڑے مارو اور ایک سال کیلئے شہر بدر کر دو'

حد قذف :


             قذف کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے مرد یا عورت پر بغیر کسی دلیل کے زنا کی تہمت لگائے، بہتان تراشی  ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کے تین مفاسد بالخصوص سامنے آتے ہیں :
   ١  فواحش کا عام ہونا
  ٢   پاکیزہ شخص کو ناکردہ گناہ کی گندگی سے آلودہ کرنا
  ٣   یہ عمل عام حياداری کو مخدوش بنا دیتا ہے

             اللہ سبحانہ و تعالی ارشاد فرماتا ہے { وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَاُولٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ} [ النور: ٤] ' جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں ٨٠ کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو یہ فاسق لوگ ہیں

حد سرقہ :


             چوری ایک ایسا جرم ہے جو انسان کو حرام خوری پر آمادہ کر دیتا ہے اور دل چوری کا عادی بن جاتا ہے اور دوسری طرف محنت کش صاحب مال کی بربادی بھی ہے اس لئے اگر مجرم کو سزا نہ دی جائے تو سماج پر ہلاکت خیز اثرات مرتب ہوں گے چنانچہ اسلام نے چوری کرنے والے شخص کا ہاتھ کاٹنے کی سزا متعین کی، ہشام بن عبدالملک نے ایک سال سرقہ کی حد کو معطل کر دیا تھا جس کا رزلٹ یہ نکلا تھا کہ چوری کے واقعات دوگنے ہوگئے چنانچہ اس نے پھر سے چوری کی سزا کو نافذ کیا اور اس کے جاری ہونے کا اعلان ہی جان و مال کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا اور فرمان الہی کی حقیقت { وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَيْدِيَهُمَا جَزَاءَ بِمَا كَسَبَا نَكَالاً مِنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ} [ المائده: ٣٨] واضح اور روشن ہوگئی

حد شرب الخمر :


             ہر طرح کے منشیات کے حرام ہونے میں علمائے امت کا اتفاق ہے کیونکہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے { كل مسکر خمر وكل خمر حرام} [ صحيح البخاري: ٢٠٠٣] ' ہر نشہ آور چیز شراب کی قسموں میں سے ہے اور شراب کی ہر ایک قسم حرام ہے ' چونکہ شراب خوری بذات خود گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے گھناؤنے گناہ کا ذریعہ بنتی ہے اس لئے شریعت اسلامیہ نے اس کی حد چالیس کوڑے متعین کی ہے تا آنکہ عہد فاروقی میں اس جرم پر مکمل بندش کے لئے ٨٠ کوڑے کر دی گئی

حد ارتداد :


             چونکہ ارتداد دین و شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے اور معاشرے میں ذہنی و فکری فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے اس لئے مرتد ہونے کی سزا قتل کر دینا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { لا يحل دم امرء مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وإني رسول الله إلا بإحدى ثلث الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة} [ صحيح ابي داود: ٤٣٥٢، مسلم: ١٦٧٤]

حد حرابہ :


             ڈاکہ زنی کی حد تمام حدوں سے سخت ترین ہے کیونکہ ڈاکہ زنی قتل و خون کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے اللہ رب العالمین فرماتا ہے { اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِيْ الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُّقَتَّلُوْا أَوْ يُصَلَّبُوْا أَوْ تُقَطَّعُ اَيْدِيَهُمْ وَاَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِيْ الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِيْ الْأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ } [ المائده:  ٣٣] ' جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں تو ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں، یا سولی پر چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت و خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

حرف آخر :


             ان حدود و سزا سے بظاہر تو جسم انسانی کو اذیت اور قطع و برید نمایاں ہوتی ہے لیکن درحقیقت سماج و معاشرہ میں طہارت و پاکیزگی، الفت و اخوت، امن و عافیت اور رحمت ہی رحمت ہے جس کا مشاہدہ ماضی سے حاضر تک کیا جا سکتا ہے آج بھی جن ممالک میں شرعی قوانین نافذ ہیں وہاں کے باشندے آرام و اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں.

           اخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہم باشندگان وطن کو حقیقی راحت نصیب فرمائے   ( آمین )




             🖊

             راضی

جمعرات، 29 جولائی، 2021

اخلاق نبوی کے چند شہ پارے

 
شمع، روشن چراغ

اس روئے زمین پر اخلاق و آداب کے بہت سے معلمین پیدا ہوئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں اخلاق کا درس دیا اور ان سے  کئی گروہوں، جماعتوں اور قوموں نے اخلاق و آداب کی تعلیم حاصل کی
آج دنیا میں جہاں کہیں بھی حسن اخلاق کا کوئی نمونہ دکھائی دیتا ہے تو یہ انہیں لوگوں کی تعلیم کا اثر ہے لیکن ان تمام معلمین میں سب سے بڑے، سب سے بہتر، سب سے ممتاز اور آخری معلم ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جن کی پوری زندگی ہم تمام بنی نوع انسان و جن کیلئے آئیڈیل اور نمونہ ہے
لیکن افسوس صد افسوس آج کا مسلمان بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کو چھوڑ کر کسی فلمی اداکار اور سیاسی لیڈر کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ مانتا ہے جبکہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اعلان کر دیاکہ: { اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقا} [ صحيح ابن حبان ٤٧٩] مزید فرمایا : { اكثر مايدخل الناس الجنة تقوى الله وحسن الخلق}  { مسند أحمد ٩٦٩٦، شعیب الأرنؤوط ١٤٣٨] ' کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز اللہ کا تقوی اور بہترین اخلاق ہے' اسی طرح اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ارشاد فرمایا: { وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ} [ القلم ٣، ٤] ' اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ کیلئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور آپ اخلاق کے اعلی مقام پر ہیں

محترم قارئین !  اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو قرآن کریم نے سراہا اور سادہ سی بات ہے کہ سراہنے کے لائق وہی شخصیت ہوا کرتی ہے جس میں کامل اوصاف اور بہترین اخلاق پائے جائیں، اگر سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کسی خاص قوم یا جماعت کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کے لئے ایک نمونہ اور آئیڈیل ہے ایسا کامل انسان نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی آپ کے بعد کوئی پیدا ہو گا

             قرآن مقدس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مذہبی اور دینی کتاب نے اپنے پیشوا اور رہبر کے بارے میں ایسی کھلی شہادت نہیں دی کہ جو عمل کے اعتبار سے اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو لیکن قرآن نے موافقین و مخالفین، دوست و دشمن اور پورے مجمع عام میں ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ اخلاق کے اس بلند مقام پر فائز ہیں جس کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے، اس آیت کریمہ کے دو پہلو ہیں ایک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر کے ختم نہ ہونے کا اعلان ہے اور دوسرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی شہادت ہے یعنی آپ کا اخلاق واعمال خود اس بات پر شاہد ہے کہ آپ کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ دنیا میں محفوظ ہے

             رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں یکسانیت تھی جو کہتے وہ کرتے اور جو کرنا رہتا وہی کہتے مطالعہ کیجیے سیرت کی کتابوں کا آپ پائینگے کہ جب جب آپ نے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے کا حکم دیا تو سب سے پہلے آپ خود بھوکے رہے اور اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دیا، جب کبھی آپ نے لوگوں کو اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کرنے کی نصیحت کی تو سب سے پہلے خود اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بھی معاف کر دیا جس نے آپ کے کھانے میں زہر ملائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے کسی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا بھی وقت آیا کہ آپ کو کپڑے کی سخت ضرورت تھی اور ایسی حالت میں اگر کسی نے آپ سے کپڑے کے لئے دست سوال دراز کر دیا تو اسی وقت اپنی چادر اتار کر اس کے سپرد کر دی، انہیں اخلاق کریمانہ کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے تمام معلمین اخلاق پر فوقیت حاصل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے سب سے ممتاز معلم کے لقب سے سرفراز کیا گیا کیونکہ جب قول سے پہلے عمل ہوگا تبھی قول مؤثر ہوگا ورنہ رائیگاں اور برباد ہو جائے گا
بقول شاعر  
                  وغير  تقي  يأمر  الناس  باالتقى
                  طيب يعادي الناس و هو  سقيم
                  يا   أيها   الرجل   المعلم   غير ه
                  هلا   لنفسك   كان   ذا   التعليم
                  لا   تنه  أن  خلق  و  تاتي   مثله
                  عار   عليك   اذا   فعلت   عظيم
الله رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سب سے بہتر اور بلند اخلاق کے ساتھ اس لئے مبعوث کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دے سکیں اور ان کی تربیت کر سکیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:{ انما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق} [ مجمع الزوائد ٩/ ١٨، الزرقاني ١١٢٢ ] ' میں خاص کر اس کام کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اپنی تعلیم و عمل سے اخلاق کریمانہ کی تکمیل کروں' اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود تھی جس کی وجہ سے ہر ہر قدم پر کامیابی آپ کے قدم چومتی رہی
سچ ہے " مواعظ الواعظ لن تقبلا حتى يعيها قبله اول"، 


                مکہ فتح ہو جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں قیام فرما ہیں نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو سرداران قریش کھڑے ہیں اس مجمع عام میں وہ بھی موجود تھا جو آپ کے جسم اطہر پر کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے، وہ بھی تھا جو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے، وہ بھی موجود تھا جو اسلام اور اہل اسلام کی بیخ کنی کیلئے خفیہ سازشیں کیا کرتے تھے غرضیکہ اس دن تمام مجرمین سرنگوں ہوکر سامنے کھڑے تھے اور ان کے پیچھے دس ہزار تلواریں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں صرف ایک اشارہ کی دیری تھی کہ تمام مجرمین کا سر دھڑ سے الگ ہو جائے، لیکن اس قدر غلبہ کامل ہونے کے باوجود چہرہ انور اٹھا کر تمام مجرمین سے مخاطب ہوئے اور کہا : "اے قریش بتاؤ ! میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟" قریش ندامت سے سرشار ہیں انہیں ایک ایک جرم یاد آ رہا ہے تاہم رحم و کرم کے ہی منتظر تھے چیخ کر بول اٹھتے ہیں' انت اخ کریم وابن کریم' آپ تو ہمارے شریف بھائی ہیں اور شریف کا بیٹا ہیں' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وہی کہا جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا :' لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين [يوسف:٩٢،أحكام الصغرى: ٥٥٨] 

             اور اس واقعہ کو بھی یاد کیجئے کہ جب قبیلہ بنی مخزوم کی ایک عورت سے چوری کا جرم سرزد ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی قانون کے تحت ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا چونکہ عورت شریف اور معزز خاندان کی تھی اسلئے قبیلہ کے سرداروں نے اسامہ بن زید کو سفارشی بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ سزا معاف کر دی جائے یا پھر سزا میں ترمیم کرکے اس پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو گئے اور فرمایا: { يا اسامة اتشفع في حد من حدود الله تعالى والذي نفسي بيده لو أن فاطمة ابنة محمد  سرقت لقطعت يدها} [ شعيب الارنؤوط: ١٤٣٨،  اسناده صحيح على شرط الشيخين] اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا داعی و معلم بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ وصیت فرمائی { يا معاذ ! احسن خلقك للناس} [ الترغيب والترهيب٣/ ٣٥٧] ' اے معاذ دیکھو !  تم لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنا '
             خادم رسول انس رضی اللہ عنہ جو دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت و صحبت میں رہے فرماتے ہیں کہ اس دس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے اف تک نہیں کہا، سوچئے جو اپنے کسی ماتحت کا اس درجہ خیال رکھتا ہو کہ دس سال کے لمبے عرصہ میں بھی کبھی اف تک نہ کہا ہو تو اس کے اخلاق کریمانہ کا کیا کہنا؟
سچ ہے :     "  بعد از خدا  بزرگ  توئی  قصہ مختصر"
  
              نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کے بارے میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: { کان خلقه القرآن} [ صحيح الجامع: ٤٨١١] ' آپ کا اخلاق سراپا قرآن تھا' یعنی قرآن مجید میں جو کچھ الفاظ کی صورت میں ہے ٹھیک وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں بصورت عمل تھا، قرآن آپ کے اخلاق کریمانہ کا مکمل آئینہ ہے لہذا جس کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واقفیت مقصود ہو وہ قرآن کا بغور مطالعہ کرے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق معلوم ہو جائے گا

            نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ چند اعلیٰ اخلاق کے نمونہ ہیں جن کو میں نے پیش کیا اگر آج بھی ہم ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے لگیں اور ان چیزوں پر خود عمل کرکے دوسروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے لگیں تو آج بھی کوئی بعید نہیں کہ غیر مسلم ہمارے اخلاق دیکھ کر مشرف بہ اسلام نہ ہوں کاش ہم تمام مسلمان اس سچے مذہب کا عملی نمونہ اور تصویر بن جائیں! اور دنیا والوں کو دکھا دیں کہ دیکھو اسلام یہ ہے، اگر ایسا ہو جائے تو مخلوق الٰہی حلقہ بگوش اسلام ہونے میں ذرا بھی توقف نہ کرے گی. 




                   📝

                  راضی 

پیر، 19 جولائی، 2021

قرآن مجید کے متفرق طور پر نازل ہونے کی حکمتیں

 

قرآن، قرآن شریف، القرآن الكريم

قرآن مجید اللہ رب العالمین کا وہ کلام ہے جسے اللہ رب العالمین نے انسانوں کی رشد و ہدایت اور خیر و بھلائی کے لئے نازل کیا جو تمام انسانوں کے لئے ایک ایسا دستورِ عمل ہے کہ جس میں قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کا حل اللہ عزوجل نے بیان کر دیا، یہی وجہ ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف معجزہ ہے، بے پناہ خوبیوں، لاتعداد حکمتوں اور بے شمار فضیلتوں سے مزین یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک نہ کسی نے پیش کر سکا اور نہ قیامت تک کوئی پیش کر سکے گا ۔

             قرآن کریم سے پہلے تمام آسمانی کتابیں انبیاء علیہم السلام  پر بیک وقت نازل کی گئیں جبکہ قرآن کریم کا نزول مختلف اوقات میں ضرورت اور مواقع کے لحاظ سے اللہ عزوجل کی حکمت اور مصلحت کے مطابق تقریبا تئیس سال کی مدت میں پورا ہوا، لیکن قرآن کریم کو بتدریج ترتیب کے ساتھ نازل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کا جواب اللہ رب العالمین نے خود ہی دے دیا فرمایا: { وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ} [ الفرقان: ٣٢] ' کافروں نے کہا کہ اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن سارا کا سارا ایک ہی ساتھ کیوں نہیں نازل کیا گیا؟ ہم نے اسی طرح (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو ثابت قدم رکھيں' 

            یعنی اہل مکہ نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو پچھلے انبیاء کی طرح کیوں نہیں آپ پر بھی قرآن پورا کا پورا ایک ہی مرتبہ میں نازل کر دیا گیا؟ چنانچہ اللہ رب العالمین نے ان کے اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ایسا صرف اس لئے نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثابت قدم رکھیں اور انہیں اس سے تقویت حاصل ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خوب اچھی طرح یاد کرلیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دوسرے انبیاء کی طرح لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اسی لئے اس کو تدریجاً نازل کیا کہ یاد کرنے میں آسانی ہو۔
 قرآن مجید کے تدریجی نزول میں متعدد اسرار اور بہت ساری حکمتیں موجود ہیں جنہیں سہولیت کی خاطر چار بڑی حکمتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جو مختصراً درج ذیل ہیں :


پہلی حکمت: قلب نبوی صلى الله علیه وسلم کی تقویت

             وحی الہی کے بار بار آنے اور جبرائیل علیہ السلام سے بار بار ملنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسرت و شادمانی سے معمور ہو جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل و دماغ میں ہر لمحہ یہ یقین موجزن رہتا کہ آپ پر اللہ کی عنایت کا سلسلہ جاری ہے اور آپ کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہے، جبرائیل علیہ السلام کا بار بار مشاہدہ آپ کے دل کی تقویت کا سبب بنتا چلا گیا،
             
             اللہ رب العالمین کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ دشمنوں کی ایذا رسانیوں اور مصائب و آلام کے وقت وہ آپ کے لئے صبر و ثبات کی قوت فراہم کرے گا، اور یہ بات بھی واضح ہے کہ مخالفین کی شرارتیں مختلف اوقات میں ہوتیں، لہٰذا ضروری تھا کہ قرآن مجید کا نزول تدریجی ہو تاکہ حسب ضرورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی کی جا سکے،چنانچہ اسی طرح کبھی انبیائے سابقین کے قصص کے ذریعہ تسلی دی گئی جیسے : { وَكُلًا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ} [ الهود: ١٢] ' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو قائم رکھتے ہیں' اور کبھی وعدۂ نصرت کے ذریعہ تسلی دی گئی جیسا کہ ارشاد باری ہے: { وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا} [ الطور: ٤٨] ' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کرتے رہیں یقینا آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں' اور اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا: { وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [ المائده: ٦٧] ' اللہ آپ کو لوگوں (کے شر ) سے محفوظ رکھے گا ۔


دوسری حکمت: امت مسلمہ کی تربیت

          
            قرآن کریم کے تدریجی نزول کی دوسری بڑی حکمت یہ تھی کہ دنیا میں جو امت مسلمہ ابھر رہی تھی اس کی علمی اور عملی تربیت میں تدریجی رفتار اختیار کیا جائے تاکہ اس امت کے لئے قرآن کا سمجھنا آسان ہو جائے، اس کا حفظ کرنا آسان ہو جائے کیونکہ یہ امت اُمی تھی بہت کم لوگ اس میں لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اس صورتحال میں اگر قرآن پورا کا پورا یکبارگی نازل کر دیا جاتا تو وہ اس کی حفاظت سے قاصر رہتے، چنانچہ حکمت عالیہ کا تقاضا تھا کہ اللہ رب العالمین نے ان کے لئے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا تاکہ اس کا حفظ آسان ہو جائے اور پوری طرح تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کا زبان سے ادا کرنا اور اس کا اظہار بھی ان کے لئے آسان ہو جائے  ۔

            اسی تدریجی نزول کے سبب وہ باطل عقائد اور فاسد عادتوں کو بخشی ترک کر رہے تھے، جاہلانہ عقائد و اخلاق اور اعمال کی ساری نجاستیں غیر محسوس طریقے پر ایسے دور ہوئیں کے پھر دوبارہ وہ لوگ اس میں مبتلا نہیں ہوئے اس کی واضح مثال شراب کی حرمت لے سکتے ہیں جسے تین مراحل میں حرام قرار دیا گیا، لوگوں کو عقائد حقہ و عبادات صحیحہ اور مکارم اخلاق سے کمال کی حد تک آراستہ کرنے کے لئے اس تدریجی نزول نے ارتقائی منازل کا کام کیا ہے، اللہ رب العالمین نے اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے اس آیت کریمہ میں { وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَّنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيْلَا} [ الإسراء: ١٠٦] ' اور ہم نے قرآن کو جز جز کر کے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور خود ہم نے بھی اسے بتدریج نازل کیا ہے  ۔


تیسری حکمت: نئے مسائل میں رہنمائی


             جب بھی کوئی جدید مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کی مناسبت سے قرآن مجید کا ایک حصہ نازل ہوتا اور اللہ رب العالمین اس مسئلہ کے متعلق احکام بتا دیتا جو اس کے مطابق ہوتے، مثلا بہت سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف اوقات میں مختلف ضرورتوں کے تحت بہت سارے سوالات کرتے تو اس موقع پر قرآن کی آیتیں نازل ہوتیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کی روشنی میں ان کا جواب دیتے، یا پھر کوئی واقعہ یا حادثہ درپیش ہوتا تو اس کی مناسبت سے آیتیں نازل ہوتیں اور ان واقعات و حادثات پر روشنی ڈالی جاتی اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : { وَلَا يَأْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرَا} [ الفرقان: ٣٣] ' یہ لوگ آپ کے پاس جو کوئی بھی مثال لائیں گے ہم اس کا صحیح جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے'


چوتھی حکمت: کلام الہی ہونے کی دلیل


             یعنی اس حقیقت کو پوری طرح کھول کر رکھ دینا کہ قرآن کریم بلاشبہ اللہ رب العالمین ہی کا کلام ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یا کسی اور مخلوق کا کلام ہو، شروع سے لے کر آخر تک پورا قرآن باریکی اور عمدگ پر مشتمل ہے، طرز بیان میں انتہائی جاذبیت اور استحکام موجود ہے اس کی سورتیں اور آیتیں آپس میں اس مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں کہ جیسے کاندھے سے کاندھا ملائے ہوئے لوگوں کی قطار ہو، سانچے میں ڈھلے ہوئے ڈلے کی طرح اس کے اجزاء آپس میں اس طرح پیوست ہیں کہ ان میں نہ علیحدگی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی اجنبیت گویا کہ موتیوں کی ایک نہایت دیدہ زیب لڑی ہو جس میں حروف، کلمات اور جملے منظم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مرتب اور ایک دوسرے سے پیوست ہیں
 
             لیکن سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں کلام کی یہ ترتیب کیسے پیدا ہو گئی؟ جب کہ وہ یکجا اور یکبارگی نازل نہیں ہوا بلکہ ایک طویل مدت میں نازل ہوا، جس کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ اس میں جابجا خلل اور رخنہ ہو اور اس میں تدریج کی وجہ سے کوئی ربط اور اتصال باقی نہ رہے جبکہ اس کا ہر جملہ، ہر آیت اور ہر سورت ایک دوسرے سے مربوط ہے اور گہرا تعلق رکھتی ہے

             اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ اس سے ہمیں اعجاز قرآنی کا ایک نیا راز دکھائی دیتا ہے اور اس بات کا یقینی مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ یہ کلام الہی ہی ہے : { وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا} [ النساء: ٨٢] ' اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے' 
      قرآن کریم کے متفرق طور پر نازل ہونے کی چند حکمتوں کا تذکرہ اس تحریر میں کیا گیا لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری حکمتیں اور راز اس میں پائے جاتے ہیں ۔

رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے ( آمین)



                📝

               راضی 

منگل، 13 جولائی، 2021

فلسفۂ حج

 

کعبہ شریف، کعبہ، بیت اللہ

محترم قارئین : فریضۂ حج اپنے اندر مقصدیت و معنویت، حکمت و مصلحت اور گوناگوں فلسفہ و افادیت رکھتا ہے، جسے راقم نے مختصراً پیش کرنے کی ادنیٰ کوشش کر رہا ہے۔

حج کی لغوی و اصطلاحی تعریف


حج لغت میں قصد و ارادہ کو کہتے ہیں. 
اصطلاح شرع میں متعینہ ایام میں مخصوص افعال و اعمال کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ شریف کا قصد کرنا[ تحفۃ الاحوذی: ج ٣] 
حج اسلام کا پانچواں اور ایک بہت ہی اہم رکن ہے، اللہ رب العالمین نے حج بیت اللہ کو مستطیع لوگوں پر واجب اور فرض قرار دیا ہے فرمایا:{ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلًا} [ اٰل عمران: ٩٧] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: { بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج و صوم رمضان } [ صحيح البخاري: ٨ ] حج بيت اللہ اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جو مالی و بدنی عبادت پر مشتمل ہے، یہ دیگر ارکان اسلام سے منفرد ہونے کے باوجود ارکان اسلام کے تمام ارکان کا خلاصہ ہے، علامہ ماوردی رحمه الله ارکان اسلام کو ذکر کرتے ہوئے حج کو آخر میں ذکر کئے جانے کی وجہ پر زور دیتے ہوئے فرمایا : "حج بیت اللہ اور اس کی ادائیگی میں اسلام کی روحانی تربیت کا پورا نچوڑ اور خلاصہ کو جمع کر دیا گیا ہے" 


حج بیت اللہ کی ایک بڑی حکمت اور فلسفہ" اللہ کے حکم کی اطاعت" ہے 

           
           کوئی شخص جب اس فریضہ کی ادائیگی کا عزم کرتا ہے تو وہ پختہ عہد کرتا ہے احکام الہی کی بجا آوری اور فرمان خداوندی کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کا اور اسی وجہ سے اس راہ کی ہر مشقت و پریشانی کو خندہ پیشانی سے گوارہ کر لیتا ہے اور مکمل طور پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے، شعائر حج ابراہیم و اسماعیل علیهما السلام کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری سے عبارت ہے، اس کے پیشتر ارکان ان کی قربانیوں و جانفشانیوں کی یادگار ہیں، چنانچہ یہی جذبۂ اطاعت ان کی دعا میں مذکور و مطلوب ہے { رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ} [ البقره: ١٢٨] ' اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ' اسی دعائے ابراہیمی کا مصداق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت  بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اللہ رب العالمین کی اطاعت کی اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کا پابند و عمل پیرا بنایا۔


ایک فلسفہ' توحید کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا'

           
             یوں تو تمام شعائر اسلام میں وحدانیت کارفرما ہے لیکن حج توحید باری کے مظاہر کچھ زیادہ ہی دکھاتی ہے، اس کی کچھ جھلکیاں یوں ہیں

١ : اللہ عزوجل نے سورہ حج میں ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنائیں فرمایا:{ وَإِذْ بَوَّاْنَا لَإِبْرَاهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْئًا} [ الحج: ٢٦] 

٢:  الله رب العالمين نے بتوں کی ہر طرح کی گندگی سے دور رہنے کا حکم دیا اس لئے کہ مشرک اور بت پرستی کا عقیدہ ایک کینسر ہے فرمایا: { فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ } [ الحج: ٣] 

٣:  تلبیہ پکارنا جو ہر حاجی کا ترانہ ہوتا ہے جب حاجی اس سے رطب اللسان ہوتا ہے تو وہ ہر طرح کے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہے اور اپنے عقیدے کو پختہ بناتا ہے 

٤:  طواف کی دونوں رکعتوں میں بالترتیب سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص پڑھ کر شرک سے براءت اور اللہ عزوجل کی وحدانیت کے عہد کی تجدید کرتا ہے

٥:  عرفہ کے دن پڑھی جانے والی دعا  { لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير} [ الترغيب والترهيب: ٣/ ٣٤٥] 

٦:  'میں بھی حاجی ہوں ' کھلم کھلا اللہ رب العالمین کی وحدانیت کا اعلان کرتا ہے 


ایک فلسفہ 'اللہ کے شعائر کا احترام اور اس کی تعظیم' ہے

          
          اللہ رب العالمین نے سورہ حج کے سیاق میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم دیا فرمایا: { وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ} [ الحج: ٣٢] ' سنو! جو اللہ کی نشانیوں کی عزت و حرمت کرتا ہے، تو یہ اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے' اس آیت کریمہ میں واضح و عیاں ہے کہ اللہ رب العالمین کے دین کے شعار کا احترام تقوی کی ایک علامت ہے


حج کا ایک فلسفہ'اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا' ہے 

         
            دین اسلام کی روز اول سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ انسانی معاشرہ متحد و متفق ہوکر زندگی گزارے، اسلام ہمیشہ ان اسباب سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے جو انسانوں کو متفرق کو منتشر کر دیتے ہیں، اتحاد و اتفاق شعائر اسلام کا اولین سبق ہے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے جس سے حجاج کرام کو متحد ہونے کا ایک درس ملتا ہے کہ جس طرح لباس میں وحدت نمایاں ہے تو رضائے الہی کے لیے ہمارے دل و دماغ اور فکر و نظر کیوں نہ ایک و نیک ہوں 


حج کا ایک فلسفہ 'اسلام کا درس مساوات' ہے

         
          اسلام سارے نسل انسانی کو آدم کی اولاد قرار دیتا ہے  { والناس بنو آدم و خلق الله آدم من تراب} [ جامع الترمذی: ٣٢٧٠] دین اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اللہ رب العالمین کے پاس معزز ہونے کے لئے صرف تقوی معیار ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا لأبيض على اسود ولا لأسود على ابيض إلا بالتقوى} [ شعيب الأرنؤوط: ١٤٣٨] حج کی ادائیگی میں بلا تفریق (رنگ و نسل) سارے مسلمان جمع ہوتے ہیں ایسے موقع پر ہمیں سبق ملتا ہے کہ خاندانی امتیازات اور قبائلی اختصاصات کو مٹا کر پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے 


حج کا ایک بڑا فلسفہ 'انسانوں کے اندر تقوی پیدا کرنا' ہے

             قرآن کریم میں ارکان کے سیاق میں تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے، روزہ کی مشروعیت کے اختتام پر { لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ} [ البقره: ٨٣] مزید سورۃ البقرہ میں ہی حج کی افادیت اور اس کی مشروعیت کے تذکرے کے بعد فرمایا: { وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى} [ البقره: ١٩٧] مناسک حج کی ادائیگی میں حجاج کرام کو تقوی پیدا کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، دوران حج ہر طرح کے فسق و فجور، جنگ و جدال اور جرم و گناہ سے پرہیز و گریز کی خصوصی تاکید کی گئی ہے اور اسی کو حج مبرور قرار دیا گیا ہے فرمایا:{ من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه} [ صحيح البخاري:١٥٢١ ]


حج بیت اللہ کا ایک فلسفہ 'فکر آخرت' بھی ہے

           
            مطلق طور پر حج دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے میدان عرفات، مزدلفہ، منی جدھر بھی نگاہ دوڑائی جائے  تاحدِنگاہ انسانوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر نظر آئے گا، کفن کی سی یہ دو چادریں میدان محشر کا سماں پیدا کر دیتی ہیں، دھول و غبار سے اٹے ہوئے انسانوں کو قبر کے مراحل اور میدان حشر کی ہولناکیوں کو تازہ کر دینے کی دعوت دیتے ہیں جو درحقیقت فکر آخرت کا تازیانہ ہے


حج کا ایک بہت بڑا فلسفہ 'شیطان سے دشمنی پر استقامت' ہے

           
              قربانی جو ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کو اللہ عزوجل کی راہ میں ذبح کرنے کی یادگار ہے، اس راہ میں شیطان نے بار بار ابراہیم علیہ السلام کو بہکانا چاہا لیکن انھوں نے شیطان کی جدوجہد پر سنگ باری کے، چنانچہ رمی جمرات کے ذریعہ شیطان سے دشمنی کی تجدید کرتا ہے شیطان اس دن بہت ہی غمگین اور ذلیل ہوتا ہے۔

       یہ ہیں حج بیت اللہ کی چند حکمتیں اور اس کا فلسفہ لہذا: اللہ تعالی ہم سب کو حج کی حکمتوں کو سمجھنے اور اپنے دل کے نہاں خانوں میں اتارنے کی توفیق دے.  (آمین) 


             📝
   
           راضی

پیر، 5 جولائی، 2021

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

 


اکیسویں صدی عیسوی کے ٹیکنالوجی انقلاب نے دنیا پر بہت سے اثرات مرتب کئے، ان مثبت و منفی اثرات سے روئے زمین کی آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ متاثر ہوا، سیاسی، سماجی، اصلاحی، اقتصادی اور معاشی سطح کے ہر ایک شعبہ پر یہ اثرات اس قدر ھمہ گیر ہیں کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنی و بے نیاز نہیں ہے، ٹیکنالوجی کے اس عظیم انقلاب کا ایک بڑا پہلو سوشل میڈیا ہے، راقم نے اسی موضوع پر چند سطور لکھنے کی ھمت کی ہے۔

سوشل میڈیا کیا ہے؟

                سوشل میڈیا انٹرنیٹ سے منسلک ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو افراد کو اور ساتھ ہی اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرنے، فکر و خیالات کا تبادلہ کرنے،اپنے پیغامات کی تبلیغ و ترسیل کرنے نیز اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی اور بھی دیگر چیزیں ( جیسے گرافکس، ویڈیوز، آڈیوز، پوسٹرس، اور مختلف قسم کی چیزیں وغیرہ) کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، سوشل میڈیا میں جس ویب سائٹ کا زیادہ تر لوگ استعمال کرتے ہیں وہ ٹیلی ویژن، یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، گوگل پلس، واٹس ایپ، ٹیلی گرام،اور انسٹاگرام وغیرہ ہیں، ان سوشل ویب سائٹس کی بدولت  دور دور تک کا فاصلہ بالکل سمٹ کر رہ گیا، ہزاروں اور لاکھوں میل دور سے انسان اپنے عزیز و اقارب، دوست و احباب، رفقاء و رشتہ دار اور اسی طرح دیگر حضرات سے رابطہ قائم کر سکتا ہے، ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کی اس ترقی کو دیکھ کر ہی دور جدید کے الیکٹرانک مسیحا  مارشل میکلوھان نے آج کی دنیا کو گلوبل ویلیج ( یعنی عالمی گاؤں) کے نام سے موسوم کیا ہے۔
             ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے ترقی کے راستے پر اتنی طویل اور اونچی چھلانگ لگائی ہے کہ انسانی جذبات و احساسات اور خیالات کو بھی اس نے متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اس صدی کے آغاز میں کتب و جرائد کی طباعت اور نشر واشاعت کی وجہ سے کتابوں اور مراجع و مصادر کی جو اہمیت تھی سوشل میڈیا کی وجہ سے انسانی زندگی سے وہ اہمیت ختم ہو کر رہ گئی، علمی اور تحقیقی معلومات کے قابل اعتماد سرچشموں کی طرف رجوع کرنے اور براہ راست ان سے استفادہ کرنے کے بجائے لوگ میڈیا کے ذریعہ پیش کی جانے والی معمولی اور ہلکی پھلکی معلومات پر زیادہ اعتماد اور بھروسہ کرنے لگے ہیں ۔

 سوشل میڈیا کی اہمیت و فوائد

                  موجودہ ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت مُسَلَّم ہے جس نے اس وسیع روئے زمین کو گلوبل ویلیج میں بدل کر رکھ دیا اور پوری دنیا کا فاصلہ صرف ایک کلک کے درمیان سمٹ کر رہ گیا، بس ایک کلک سے کسی بھی طرح کی علمی، دینی، ثقافتی، تہذیبی، تربیتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا نے پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان سے رنگ و نسل، دین و مذہب اور اونچ نیچ کے تفاوت کو نیست و نابود کرکے سب کو ایک ہی ڈرائنگ روم میں جمع کر دیا، اس کے ذریعہ ہر شخص ایک دوسرے سے متعارف ہو کر تبادلہ خیال اور تبلیغی کام انجام دے سکتا ہے نیز اس کے اور بھی بے شمار فوائد ہیں جن میں سب سے اہم اور عظیم فائدہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل کا فرمان { أُدْعُ إِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنْ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِه وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ} [ النحل: ١٢٥]  اسی طرح  { وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةُ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} [ اٰل عمران: ١٠٤] کے مطابق دین اسلام کی تبلیغ وترسیل کا فریضہ ( جو کہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک عظیم اور اہم فریضہ ہے) سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھ کر اور کسی بھی طرح کے بودوباش اختیار کئے ہوئے شخص تک اسلام کا پیغام پہنچا کر انتہائی آسانی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں، نیز جو لوگ مذہب اسلام سے اس قدر متنفر ہیں کہ اسلام کے متعلق کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور نہ ہی کسی مسلمان کا سامنا کرنا پسند کرتے ہیں، انہیں بھی ان جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دین اسلام کی طرف دعوت دے کر دائرہ اسلام میں داخل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح دشمنان اسلام کی جانب سے مذہب اسلام کے خلاف جو ریشہ دوانیاں اور زہرافشانیاں کی جا رہی ہیں، ان ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے مذہب اسلام کا دفاع کرتے ہوئے دشمنان اسلام کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور عوامی اعداءِ اسلام کی جانب سے جو بد گمانیاں اور غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ان کو دور کر سکتے ہیں نیز اللہ رب العالمین کا فرمان { الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر} کے تحت نیکی کے فروغ اور معصیت پر روک کے لئے ان ذرائع کا استعمال کر کے ہم اللہ عزوجل کی قربت اور اجر عظیم کے حقدار بن سکتے ہیں،
           الحمدللہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آج بہت سے لوگ فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ علمائے کرام اور داعیان اسلام کی تعلیمات کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ نشر و اشاعت کر رہے ہیں نیز لوگوں کی ذہن سازی اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعات و سیئات پر قدغن لگانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے نقصانات

        سوشل میڈیا کے استعمال میں جہاں ہمارے لئے بے شمار فوائد  مضمر ہے وہیں اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں، جہاں اس کا استعمال خیر و بھلائی کے لئے کیا جاتا ہے وہیں اس کا استعمال شر و برائی کے لئے بھی کیا جارہا ہے اور نوجوان نسل کی فکر و نظر، سوچ اور ذہن کو اس کے ذریعہ مغربی تہذیب و ثقافت میں مسخر کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے آج معاشرے میں فحاشی و عریانیت اور رقص و سرور بالکل عام ہو چکی ہے، ہمارا مسلم معاشرہ بے شمار ذنوب ومعصیت میں غرق ہوتا چلا جا رہا ہے اور ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات دم توڑ چکی ہے ۔
آج بالخصوص ہماری نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کا استعمال غلط مقاصد کے لئےکر رہی ہے، ہمارے معاشرے کے وہ بچے جن کو کتب خانوں اور لائبریریوں میں ہونا چاہیے وہ موبائل فون ہاتھوں میں لئے گلی کوچوں کی زینت بنے پھر رہے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال اور تعلیم پر کم توجہ نیز اسلامی تعلیمات سے کنارہ کشی کی وجہ سے ہمارے سوسائٹی میں مختلف قسم کے ناقابل ذکر اور حرام و ناجائز واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔

خلاصۂ کلام

               آج کی ٹیکنالوجی انقلاب اور سوشل میڈیا نے انسان کی ترقی کے منازل کو تو آسان ضرور کر دیا اور انسانی زندگی میں اس کے فوائد بھی کچھ کم نہیں، مگر انسان کی منفی سوچ، انداز فکر اور ان ذرائع کا غلط استعمال کی وجہ سے سماج و معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ تباہی اور ہلاکت خیزی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہمارا سماجی، معاشرتی اور دینی اقتدار آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے، اگر کہا جائے تو معاشرہ وسماج موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے
اس بگاڑ کا سبب کوئی اور نہیں خود انسان ہی ہے اس لئے کہ سوشل میڈیا کے دو پہلو ہیں مثبت اور منفی جو شخص اس کا استعمال مثبت طریقے سے صرف اس کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیئات اور گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اور بہترین مقصد کے لئے کرے گا تو اللہ رب العالمین اس کے اس عمل خیر کی بدولت اسے اجر عظیم سے نوازے گا، سوشل میڈیا کا استعمال مطلق طور پر برا اور نقصان دہ ہرگز نہیں اگر ہم اسے برے استعمال میں نہ لائیں .


               🖋
              
                راضی

کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے

دیوالی کی مٹھائی سوال : کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے ؟ جواب : اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارک باد ...