جمعرات، 29 جولائی، 2021

اخلاق نبوی کے چند شہ پارے

 
شمع، روشن چراغ

اس روئے زمین پر اخلاق و آداب کے بہت سے معلمین پیدا ہوئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں اخلاق کا درس دیا اور ان سے  کئی گروہوں، جماعتوں اور قوموں نے اخلاق و آداب کی تعلیم حاصل کی
آج دنیا میں جہاں کہیں بھی حسن اخلاق کا کوئی نمونہ دکھائی دیتا ہے تو یہ انہیں لوگوں کی تعلیم کا اثر ہے لیکن ان تمام معلمین میں سب سے بڑے، سب سے بہتر، سب سے ممتاز اور آخری معلم ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جن کی پوری زندگی ہم تمام بنی نوع انسان و جن کیلئے آئیڈیل اور نمونہ ہے
لیکن افسوس صد افسوس آج کا مسلمان بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کو چھوڑ کر کسی فلمی اداکار اور سیاسی لیڈر کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ مانتا ہے جبکہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اعلان کر دیاکہ: { اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقا} [ صحيح ابن حبان ٤٧٩] مزید فرمایا : { اكثر مايدخل الناس الجنة تقوى الله وحسن الخلق}  { مسند أحمد ٩٦٩٦، شعیب الأرنؤوط ١٤٣٨] ' کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز اللہ کا تقوی اور بہترین اخلاق ہے' اسی طرح اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ارشاد فرمایا: { وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ} [ القلم ٣، ٤] ' اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ کیلئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور آپ اخلاق کے اعلی مقام پر ہیں

محترم قارئین !  اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو قرآن کریم نے سراہا اور سادہ سی بات ہے کہ سراہنے کے لائق وہی شخصیت ہوا کرتی ہے جس میں کامل اوصاف اور بہترین اخلاق پائے جائیں، اگر سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کسی خاص قوم یا جماعت کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کے لئے ایک نمونہ اور آئیڈیل ہے ایسا کامل انسان نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی آپ کے بعد کوئی پیدا ہو گا

             قرآن مقدس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مذہبی اور دینی کتاب نے اپنے پیشوا اور رہبر کے بارے میں ایسی کھلی شہادت نہیں دی کہ جو عمل کے اعتبار سے اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو لیکن قرآن نے موافقین و مخالفین، دوست و دشمن اور پورے مجمع عام میں ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ اخلاق کے اس بلند مقام پر فائز ہیں جس کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے، اس آیت کریمہ کے دو پہلو ہیں ایک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر کے ختم نہ ہونے کا اعلان ہے اور دوسرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی شہادت ہے یعنی آپ کا اخلاق واعمال خود اس بات پر شاہد ہے کہ آپ کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ دنیا میں محفوظ ہے

             رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں یکسانیت تھی جو کہتے وہ کرتے اور جو کرنا رہتا وہی کہتے مطالعہ کیجیے سیرت کی کتابوں کا آپ پائینگے کہ جب جب آپ نے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے کا حکم دیا تو سب سے پہلے آپ خود بھوکے رہے اور اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دیا، جب کبھی آپ نے لوگوں کو اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کرنے کی نصیحت کی تو سب سے پہلے خود اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بھی معاف کر دیا جس نے آپ کے کھانے میں زہر ملائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے کسی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا بھی وقت آیا کہ آپ کو کپڑے کی سخت ضرورت تھی اور ایسی حالت میں اگر کسی نے آپ سے کپڑے کے لئے دست سوال دراز کر دیا تو اسی وقت اپنی چادر اتار کر اس کے سپرد کر دی، انہیں اخلاق کریمانہ کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے تمام معلمین اخلاق پر فوقیت حاصل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے سب سے ممتاز معلم کے لقب سے سرفراز کیا گیا کیونکہ جب قول سے پہلے عمل ہوگا تبھی قول مؤثر ہوگا ورنہ رائیگاں اور برباد ہو جائے گا
بقول شاعر  
                  وغير  تقي  يأمر  الناس  باالتقى
                  طيب يعادي الناس و هو  سقيم
                  يا   أيها   الرجل   المعلم   غير ه
                  هلا   لنفسك   كان   ذا   التعليم
                  لا   تنه  أن  خلق  و  تاتي   مثله
                  عار   عليك   اذا   فعلت   عظيم
الله رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سب سے بہتر اور بلند اخلاق کے ساتھ اس لئے مبعوث کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دے سکیں اور ان کی تربیت کر سکیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:{ انما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق} [ مجمع الزوائد ٩/ ١٨، الزرقاني ١١٢٢ ] ' میں خاص کر اس کام کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اپنی تعلیم و عمل سے اخلاق کریمانہ کی تکمیل کروں' اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود تھی جس کی وجہ سے ہر ہر قدم پر کامیابی آپ کے قدم چومتی رہی
سچ ہے " مواعظ الواعظ لن تقبلا حتى يعيها قبله اول"، 


                مکہ فتح ہو جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں قیام فرما ہیں نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو سرداران قریش کھڑے ہیں اس مجمع عام میں وہ بھی موجود تھا جو آپ کے جسم اطہر پر کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے، وہ بھی تھا جو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے، وہ بھی موجود تھا جو اسلام اور اہل اسلام کی بیخ کنی کیلئے خفیہ سازشیں کیا کرتے تھے غرضیکہ اس دن تمام مجرمین سرنگوں ہوکر سامنے کھڑے تھے اور ان کے پیچھے دس ہزار تلواریں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں صرف ایک اشارہ کی دیری تھی کہ تمام مجرمین کا سر دھڑ سے الگ ہو جائے، لیکن اس قدر غلبہ کامل ہونے کے باوجود چہرہ انور اٹھا کر تمام مجرمین سے مخاطب ہوئے اور کہا : "اے قریش بتاؤ ! میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟" قریش ندامت سے سرشار ہیں انہیں ایک ایک جرم یاد آ رہا ہے تاہم رحم و کرم کے ہی منتظر تھے چیخ کر بول اٹھتے ہیں' انت اخ کریم وابن کریم' آپ تو ہمارے شریف بھائی ہیں اور شریف کا بیٹا ہیں' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وہی کہا جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا :' لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين [يوسف:٩٢،أحكام الصغرى: ٥٥٨] 

             اور اس واقعہ کو بھی یاد کیجئے کہ جب قبیلہ بنی مخزوم کی ایک عورت سے چوری کا جرم سرزد ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی قانون کے تحت ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا چونکہ عورت شریف اور معزز خاندان کی تھی اسلئے قبیلہ کے سرداروں نے اسامہ بن زید کو سفارشی بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ سزا معاف کر دی جائے یا پھر سزا میں ترمیم کرکے اس پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو گئے اور فرمایا: { يا اسامة اتشفع في حد من حدود الله تعالى والذي نفسي بيده لو أن فاطمة ابنة محمد  سرقت لقطعت يدها} [ شعيب الارنؤوط: ١٤٣٨،  اسناده صحيح على شرط الشيخين] اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا داعی و معلم بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ وصیت فرمائی { يا معاذ ! احسن خلقك للناس} [ الترغيب والترهيب٣/ ٣٥٧] ' اے معاذ دیکھو !  تم لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنا '
             خادم رسول انس رضی اللہ عنہ جو دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت و صحبت میں رہے فرماتے ہیں کہ اس دس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے اف تک نہیں کہا، سوچئے جو اپنے کسی ماتحت کا اس درجہ خیال رکھتا ہو کہ دس سال کے لمبے عرصہ میں بھی کبھی اف تک نہ کہا ہو تو اس کے اخلاق کریمانہ کا کیا کہنا؟
سچ ہے :     "  بعد از خدا  بزرگ  توئی  قصہ مختصر"
  
              نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کے بارے میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: { کان خلقه القرآن} [ صحيح الجامع: ٤٨١١] ' آپ کا اخلاق سراپا قرآن تھا' یعنی قرآن مجید میں جو کچھ الفاظ کی صورت میں ہے ٹھیک وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں بصورت عمل تھا، قرآن آپ کے اخلاق کریمانہ کا مکمل آئینہ ہے لہذا جس کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واقفیت مقصود ہو وہ قرآن کا بغور مطالعہ کرے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق معلوم ہو جائے گا

            نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ چند اعلیٰ اخلاق کے نمونہ ہیں جن کو میں نے پیش کیا اگر آج بھی ہم ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے لگیں اور ان چیزوں پر خود عمل کرکے دوسروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے لگیں تو آج بھی کوئی بعید نہیں کہ غیر مسلم ہمارے اخلاق دیکھ کر مشرف بہ اسلام نہ ہوں کاش ہم تمام مسلمان اس سچے مذہب کا عملی نمونہ اور تصویر بن جائیں! اور دنیا والوں کو دکھا دیں کہ دیکھو اسلام یہ ہے، اگر ایسا ہو جائے تو مخلوق الٰہی حلقہ بگوش اسلام ہونے میں ذرا بھی توقف نہ کرے گی. 




                   📝

                  راضی 

پیر، 19 جولائی، 2021

قرآن مجید کے متفرق طور پر نازل ہونے کی حکمتیں

 

قرآن، قرآن شریف، القرآن الكريم

قرآن مجید اللہ رب العالمین کا وہ کلام ہے جسے اللہ رب العالمین نے انسانوں کی رشد و ہدایت اور خیر و بھلائی کے لئے نازل کیا جو تمام انسانوں کے لئے ایک ایسا دستورِ عمل ہے کہ جس میں قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کا حل اللہ عزوجل نے بیان کر دیا، یہی وجہ ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف معجزہ ہے، بے پناہ خوبیوں، لاتعداد حکمتوں اور بے شمار فضیلتوں سے مزین یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک نہ کسی نے پیش کر سکا اور نہ قیامت تک کوئی پیش کر سکے گا ۔

             قرآن کریم سے پہلے تمام آسمانی کتابیں انبیاء علیہم السلام  پر بیک وقت نازل کی گئیں جبکہ قرآن کریم کا نزول مختلف اوقات میں ضرورت اور مواقع کے لحاظ سے اللہ عزوجل کی حکمت اور مصلحت کے مطابق تقریبا تئیس سال کی مدت میں پورا ہوا، لیکن قرآن کریم کو بتدریج ترتیب کے ساتھ نازل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کا جواب اللہ رب العالمین نے خود ہی دے دیا فرمایا: { وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ} [ الفرقان: ٣٢] ' کافروں نے کہا کہ اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن سارا کا سارا ایک ہی ساتھ کیوں نہیں نازل کیا گیا؟ ہم نے اسی طرح (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو ثابت قدم رکھيں' 

            یعنی اہل مکہ نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو پچھلے انبیاء کی طرح کیوں نہیں آپ پر بھی قرآن پورا کا پورا ایک ہی مرتبہ میں نازل کر دیا گیا؟ چنانچہ اللہ رب العالمین نے ان کے اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ایسا صرف اس لئے نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثابت قدم رکھیں اور انہیں اس سے تقویت حاصل ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خوب اچھی طرح یاد کرلیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دوسرے انبیاء کی طرح لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اسی لئے اس کو تدریجاً نازل کیا کہ یاد کرنے میں آسانی ہو۔
 قرآن مجید کے تدریجی نزول میں متعدد اسرار اور بہت ساری حکمتیں موجود ہیں جنہیں سہولیت کی خاطر چار بڑی حکمتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جو مختصراً درج ذیل ہیں :


پہلی حکمت: قلب نبوی صلى الله علیه وسلم کی تقویت

             وحی الہی کے بار بار آنے اور جبرائیل علیہ السلام سے بار بار ملنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسرت و شادمانی سے معمور ہو جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل و دماغ میں ہر لمحہ یہ یقین موجزن رہتا کہ آپ پر اللہ کی عنایت کا سلسلہ جاری ہے اور آپ کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہے، جبرائیل علیہ السلام کا بار بار مشاہدہ آپ کے دل کی تقویت کا سبب بنتا چلا گیا،
             
             اللہ رب العالمین کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ دشمنوں کی ایذا رسانیوں اور مصائب و آلام کے وقت وہ آپ کے لئے صبر و ثبات کی قوت فراہم کرے گا، اور یہ بات بھی واضح ہے کہ مخالفین کی شرارتیں مختلف اوقات میں ہوتیں، لہٰذا ضروری تھا کہ قرآن مجید کا نزول تدریجی ہو تاکہ حسب ضرورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی کی جا سکے،چنانچہ اسی طرح کبھی انبیائے سابقین کے قصص کے ذریعہ تسلی دی گئی جیسے : { وَكُلًا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ} [ الهود: ١٢] ' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو قائم رکھتے ہیں' اور کبھی وعدۂ نصرت کے ذریعہ تسلی دی گئی جیسا کہ ارشاد باری ہے: { وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا} [ الطور: ٤٨] ' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کرتے رہیں یقینا آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں' اور اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا: { وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [ المائده: ٦٧] ' اللہ آپ کو لوگوں (کے شر ) سے محفوظ رکھے گا ۔


دوسری حکمت: امت مسلمہ کی تربیت

          
            قرآن کریم کے تدریجی نزول کی دوسری بڑی حکمت یہ تھی کہ دنیا میں جو امت مسلمہ ابھر رہی تھی اس کی علمی اور عملی تربیت میں تدریجی رفتار اختیار کیا جائے تاکہ اس امت کے لئے قرآن کا سمجھنا آسان ہو جائے، اس کا حفظ کرنا آسان ہو جائے کیونکہ یہ امت اُمی تھی بہت کم لوگ اس میں لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اس صورتحال میں اگر قرآن پورا کا پورا یکبارگی نازل کر دیا جاتا تو وہ اس کی حفاظت سے قاصر رہتے، چنانچہ حکمت عالیہ کا تقاضا تھا کہ اللہ رب العالمین نے ان کے لئے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا تاکہ اس کا حفظ آسان ہو جائے اور پوری طرح تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کا زبان سے ادا کرنا اور اس کا اظہار بھی ان کے لئے آسان ہو جائے  ۔

            اسی تدریجی نزول کے سبب وہ باطل عقائد اور فاسد عادتوں کو بخشی ترک کر رہے تھے، جاہلانہ عقائد و اخلاق اور اعمال کی ساری نجاستیں غیر محسوس طریقے پر ایسے دور ہوئیں کے پھر دوبارہ وہ لوگ اس میں مبتلا نہیں ہوئے اس کی واضح مثال شراب کی حرمت لے سکتے ہیں جسے تین مراحل میں حرام قرار دیا گیا، لوگوں کو عقائد حقہ و عبادات صحیحہ اور مکارم اخلاق سے کمال کی حد تک آراستہ کرنے کے لئے اس تدریجی نزول نے ارتقائی منازل کا کام کیا ہے، اللہ رب العالمین نے اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے اس آیت کریمہ میں { وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَّنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيْلَا} [ الإسراء: ١٠٦] ' اور ہم نے قرآن کو جز جز کر کے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور خود ہم نے بھی اسے بتدریج نازل کیا ہے  ۔


تیسری حکمت: نئے مسائل میں رہنمائی


             جب بھی کوئی جدید مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کی مناسبت سے قرآن مجید کا ایک حصہ نازل ہوتا اور اللہ رب العالمین اس مسئلہ کے متعلق احکام بتا دیتا جو اس کے مطابق ہوتے، مثلا بہت سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف اوقات میں مختلف ضرورتوں کے تحت بہت سارے سوالات کرتے تو اس موقع پر قرآن کی آیتیں نازل ہوتیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کی روشنی میں ان کا جواب دیتے، یا پھر کوئی واقعہ یا حادثہ درپیش ہوتا تو اس کی مناسبت سے آیتیں نازل ہوتیں اور ان واقعات و حادثات پر روشنی ڈالی جاتی اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : { وَلَا يَأْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرَا} [ الفرقان: ٣٣] ' یہ لوگ آپ کے پاس جو کوئی بھی مثال لائیں گے ہم اس کا صحیح جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے'


چوتھی حکمت: کلام الہی ہونے کی دلیل


             یعنی اس حقیقت کو پوری طرح کھول کر رکھ دینا کہ قرآن کریم بلاشبہ اللہ رب العالمین ہی کا کلام ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یا کسی اور مخلوق کا کلام ہو، شروع سے لے کر آخر تک پورا قرآن باریکی اور عمدگ پر مشتمل ہے، طرز بیان میں انتہائی جاذبیت اور استحکام موجود ہے اس کی سورتیں اور آیتیں آپس میں اس مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں کہ جیسے کاندھے سے کاندھا ملائے ہوئے لوگوں کی قطار ہو، سانچے میں ڈھلے ہوئے ڈلے کی طرح اس کے اجزاء آپس میں اس طرح پیوست ہیں کہ ان میں نہ علیحدگی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی اجنبیت گویا کہ موتیوں کی ایک نہایت دیدہ زیب لڑی ہو جس میں حروف، کلمات اور جملے منظم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مرتب اور ایک دوسرے سے پیوست ہیں
 
             لیکن سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں کلام کی یہ ترتیب کیسے پیدا ہو گئی؟ جب کہ وہ یکجا اور یکبارگی نازل نہیں ہوا بلکہ ایک طویل مدت میں نازل ہوا، جس کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ اس میں جابجا خلل اور رخنہ ہو اور اس میں تدریج کی وجہ سے کوئی ربط اور اتصال باقی نہ رہے جبکہ اس کا ہر جملہ، ہر آیت اور ہر سورت ایک دوسرے سے مربوط ہے اور گہرا تعلق رکھتی ہے

             اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ اس سے ہمیں اعجاز قرآنی کا ایک نیا راز دکھائی دیتا ہے اور اس بات کا یقینی مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ یہ کلام الہی ہی ہے : { وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا} [ النساء: ٨٢] ' اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے' 
      قرآن کریم کے متفرق طور پر نازل ہونے کی چند حکمتوں کا تذکرہ اس تحریر میں کیا گیا لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری حکمتیں اور راز اس میں پائے جاتے ہیں ۔

رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے ( آمین)



                📝

               راضی 

منگل، 13 جولائی، 2021

فلسفۂ حج

 

کعبہ شریف، کعبہ، بیت اللہ

محترم قارئین : فریضۂ حج اپنے اندر مقصدیت و معنویت، حکمت و مصلحت اور گوناگوں فلسفہ و افادیت رکھتا ہے، جسے راقم نے مختصراً پیش کرنے کی ادنیٰ کوشش کر رہا ہے۔

حج کی لغوی و اصطلاحی تعریف


حج لغت میں قصد و ارادہ کو کہتے ہیں. 
اصطلاح شرع میں متعینہ ایام میں مخصوص افعال و اعمال کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ شریف کا قصد کرنا[ تحفۃ الاحوذی: ج ٣] 
حج اسلام کا پانچواں اور ایک بہت ہی اہم رکن ہے، اللہ رب العالمین نے حج بیت اللہ کو مستطیع لوگوں پر واجب اور فرض قرار دیا ہے فرمایا:{ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلًا} [ اٰل عمران: ٩٧] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: { بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج و صوم رمضان } [ صحيح البخاري: ٨ ] حج بيت اللہ اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جو مالی و بدنی عبادت پر مشتمل ہے، یہ دیگر ارکان اسلام سے منفرد ہونے کے باوجود ارکان اسلام کے تمام ارکان کا خلاصہ ہے، علامہ ماوردی رحمه الله ارکان اسلام کو ذکر کرتے ہوئے حج کو آخر میں ذکر کئے جانے کی وجہ پر زور دیتے ہوئے فرمایا : "حج بیت اللہ اور اس کی ادائیگی میں اسلام کی روحانی تربیت کا پورا نچوڑ اور خلاصہ کو جمع کر دیا گیا ہے" 


حج بیت اللہ کی ایک بڑی حکمت اور فلسفہ" اللہ کے حکم کی اطاعت" ہے 

           
           کوئی شخص جب اس فریضہ کی ادائیگی کا عزم کرتا ہے تو وہ پختہ عہد کرتا ہے احکام الہی کی بجا آوری اور فرمان خداوندی کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کا اور اسی وجہ سے اس راہ کی ہر مشقت و پریشانی کو خندہ پیشانی سے گوارہ کر لیتا ہے اور مکمل طور پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے، شعائر حج ابراہیم و اسماعیل علیهما السلام کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری سے عبارت ہے، اس کے پیشتر ارکان ان کی قربانیوں و جانفشانیوں کی یادگار ہیں، چنانچہ یہی جذبۂ اطاعت ان کی دعا میں مذکور و مطلوب ہے { رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ} [ البقره: ١٢٨] ' اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ' اسی دعائے ابراہیمی کا مصداق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت  بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اللہ رب العالمین کی اطاعت کی اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کا پابند و عمل پیرا بنایا۔


ایک فلسفہ' توحید کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا'

           
             یوں تو تمام شعائر اسلام میں وحدانیت کارفرما ہے لیکن حج توحید باری کے مظاہر کچھ زیادہ ہی دکھاتی ہے، اس کی کچھ جھلکیاں یوں ہیں

١ : اللہ عزوجل نے سورہ حج میں ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنائیں فرمایا:{ وَإِذْ بَوَّاْنَا لَإِبْرَاهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْئًا} [ الحج: ٢٦] 

٢:  الله رب العالمين نے بتوں کی ہر طرح کی گندگی سے دور رہنے کا حکم دیا اس لئے کہ مشرک اور بت پرستی کا عقیدہ ایک کینسر ہے فرمایا: { فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ } [ الحج: ٣] 

٣:  تلبیہ پکارنا جو ہر حاجی کا ترانہ ہوتا ہے جب حاجی اس سے رطب اللسان ہوتا ہے تو وہ ہر طرح کے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہے اور اپنے عقیدے کو پختہ بناتا ہے 

٤:  طواف کی دونوں رکعتوں میں بالترتیب سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص پڑھ کر شرک سے براءت اور اللہ عزوجل کی وحدانیت کے عہد کی تجدید کرتا ہے

٥:  عرفہ کے دن پڑھی جانے والی دعا  { لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير} [ الترغيب والترهيب: ٣/ ٣٤٥] 

٦:  'میں بھی حاجی ہوں ' کھلم کھلا اللہ رب العالمین کی وحدانیت کا اعلان کرتا ہے 


ایک فلسفہ 'اللہ کے شعائر کا احترام اور اس کی تعظیم' ہے

          
          اللہ رب العالمین نے سورہ حج کے سیاق میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم دیا فرمایا: { وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ} [ الحج: ٣٢] ' سنو! جو اللہ کی نشانیوں کی عزت و حرمت کرتا ہے، تو یہ اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے' اس آیت کریمہ میں واضح و عیاں ہے کہ اللہ رب العالمین کے دین کے شعار کا احترام تقوی کی ایک علامت ہے


حج کا ایک فلسفہ'اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا' ہے 

         
            دین اسلام کی روز اول سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ انسانی معاشرہ متحد و متفق ہوکر زندگی گزارے، اسلام ہمیشہ ان اسباب سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے جو انسانوں کو متفرق کو منتشر کر دیتے ہیں، اتحاد و اتفاق شعائر اسلام کا اولین سبق ہے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے جس سے حجاج کرام کو متحد ہونے کا ایک درس ملتا ہے کہ جس طرح لباس میں وحدت نمایاں ہے تو رضائے الہی کے لیے ہمارے دل و دماغ اور فکر و نظر کیوں نہ ایک و نیک ہوں 


حج کا ایک فلسفہ 'اسلام کا درس مساوات' ہے

         
          اسلام سارے نسل انسانی کو آدم کی اولاد قرار دیتا ہے  { والناس بنو آدم و خلق الله آدم من تراب} [ جامع الترمذی: ٣٢٧٠] دین اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اللہ رب العالمین کے پاس معزز ہونے کے لئے صرف تقوی معیار ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا لأبيض على اسود ولا لأسود على ابيض إلا بالتقوى} [ شعيب الأرنؤوط: ١٤٣٨] حج کی ادائیگی میں بلا تفریق (رنگ و نسل) سارے مسلمان جمع ہوتے ہیں ایسے موقع پر ہمیں سبق ملتا ہے کہ خاندانی امتیازات اور قبائلی اختصاصات کو مٹا کر پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے 


حج کا ایک بڑا فلسفہ 'انسانوں کے اندر تقوی پیدا کرنا' ہے

             قرآن کریم میں ارکان کے سیاق میں تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے، روزہ کی مشروعیت کے اختتام پر { لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ} [ البقره: ٨٣] مزید سورۃ البقرہ میں ہی حج کی افادیت اور اس کی مشروعیت کے تذکرے کے بعد فرمایا: { وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى} [ البقره: ١٩٧] مناسک حج کی ادائیگی میں حجاج کرام کو تقوی پیدا کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، دوران حج ہر طرح کے فسق و فجور، جنگ و جدال اور جرم و گناہ سے پرہیز و گریز کی خصوصی تاکید کی گئی ہے اور اسی کو حج مبرور قرار دیا گیا ہے فرمایا:{ من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه} [ صحيح البخاري:١٥٢١ ]


حج بیت اللہ کا ایک فلسفہ 'فکر آخرت' بھی ہے

           
            مطلق طور پر حج دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے میدان عرفات، مزدلفہ، منی جدھر بھی نگاہ دوڑائی جائے  تاحدِنگاہ انسانوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر نظر آئے گا، کفن کی سی یہ دو چادریں میدان محشر کا سماں پیدا کر دیتی ہیں، دھول و غبار سے اٹے ہوئے انسانوں کو قبر کے مراحل اور میدان حشر کی ہولناکیوں کو تازہ کر دینے کی دعوت دیتے ہیں جو درحقیقت فکر آخرت کا تازیانہ ہے


حج کا ایک بہت بڑا فلسفہ 'شیطان سے دشمنی پر استقامت' ہے

           
              قربانی جو ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کو اللہ عزوجل کی راہ میں ذبح کرنے کی یادگار ہے، اس راہ میں شیطان نے بار بار ابراہیم علیہ السلام کو بہکانا چاہا لیکن انھوں نے شیطان کی جدوجہد پر سنگ باری کے، چنانچہ رمی جمرات کے ذریعہ شیطان سے دشمنی کی تجدید کرتا ہے شیطان اس دن بہت ہی غمگین اور ذلیل ہوتا ہے۔

       یہ ہیں حج بیت اللہ کی چند حکمتیں اور اس کا فلسفہ لہذا: اللہ تعالی ہم سب کو حج کی حکمتوں کو سمجھنے اور اپنے دل کے نہاں خانوں میں اتارنے کی توفیق دے.  (آمین) 


             📝
   
           راضی

پیر، 5 جولائی، 2021

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

 


اکیسویں صدی عیسوی کے ٹیکنالوجی انقلاب نے دنیا پر بہت سے اثرات مرتب کئے، ان مثبت و منفی اثرات سے روئے زمین کی آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ متاثر ہوا، سیاسی، سماجی، اصلاحی، اقتصادی اور معاشی سطح کے ہر ایک شعبہ پر یہ اثرات اس قدر ھمہ گیر ہیں کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنی و بے نیاز نہیں ہے، ٹیکنالوجی کے اس عظیم انقلاب کا ایک بڑا پہلو سوشل میڈیا ہے، راقم نے اسی موضوع پر چند سطور لکھنے کی ھمت کی ہے۔

سوشل میڈیا کیا ہے؟

                سوشل میڈیا انٹرنیٹ سے منسلک ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو افراد کو اور ساتھ ہی اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرنے، فکر و خیالات کا تبادلہ کرنے،اپنے پیغامات کی تبلیغ و ترسیل کرنے نیز اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی اور بھی دیگر چیزیں ( جیسے گرافکس، ویڈیوز، آڈیوز، پوسٹرس، اور مختلف قسم کی چیزیں وغیرہ) کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، سوشل میڈیا میں جس ویب سائٹ کا زیادہ تر لوگ استعمال کرتے ہیں وہ ٹیلی ویژن، یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، گوگل پلس، واٹس ایپ، ٹیلی گرام،اور انسٹاگرام وغیرہ ہیں، ان سوشل ویب سائٹس کی بدولت  دور دور تک کا فاصلہ بالکل سمٹ کر رہ گیا، ہزاروں اور لاکھوں میل دور سے انسان اپنے عزیز و اقارب، دوست و احباب، رفقاء و رشتہ دار اور اسی طرح دیگر حضرات سے رابطہ قائم کر سکتا ہے، ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کی اس ترقی کو دیکھ کر ہی دور جدید کے الیکٹرانک مسیحا  مارشل میکلوھان نے آج کی دنیا کو گلوبل ویلیج ( یعنی عالمی گاؤں) کے نام سے موسوم کیا ہے۔
             ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے ترقی کے راستے پر اتنی طویل اور اونچی چھلانگ لگائی ہے کہ انسانی جذبات و احساسات اور خیالات کو بھی اس نے متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اس صدی کے آغاز میں کتب و جرائد کی طباعت اور نشر واشاعت کی وجہ سے کتابوں اور مراجع و مصادر کی جو اہمیت تھی سوشل میڈیا کی وجہ سے انسانی زندگی سے وہ اہمیت ختم ہو کر رہ گئی، علمی اور تحقیقی معلومات کے قابل اعتماد سرچشموں کی طرف رجوع کرنے اور براہ راست ان سے استفادہ کرنے کے بجائے لوگ میڈیا کے ذریعہ پیش کی جانے والی معمولی اور ہلکی پھلکی معلومات پر زیادہ اعتماد اور بھروسہ کرنے لگے ہیں ۔

 سوشل میڈیا کی اہمیت و فوائد

                  موجودہ ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت مُسَلَّم ہے جس نے اس وسیع روئے زمین کو گلوبل ویلیج میں بدل کر رکھ دیا اور پوری دنیا کا فاصلہ صرف ایک کلک کے درمیان سمٹ کر رہ گیا، بس ایک کلک سے کسی بھی طرح کی علمی، دینی، ثقافتی، تہذیبی، تربیتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا نے پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان سے رنگ و نسل، دین و مذہب اور اونچ نیچ کے تفاوت کو نیست و نابود کرکے سب کو ایک ہی ڈرائنگ روم میں جمع کر دیا، اس کے ذریعہ ہر شخص ایک دوسرے سے متعارف ہو کر تبادلہ خیال اور تبلیغی کام انجام دے سکتا ہے نیز اس کے اور بھی بے شمار فوائد ہیں جن میں سب سے اہم اور عظیم فائدہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل کا فرمان { أُدْعُ إِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنْ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِه وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ} [ النحل: ١٢٥]  اسی طرح  { وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةُ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} [ اٰل عمران: ١٠٤] کے مطابق دین اسلام کی تبلیغ وترسیل کا فریضہ ( جو کہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک عظیم اور اہم فریضہ ہے) سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھ کر اور کسی بھی طرح کے بودوباش اختیار کئے ہوئے شخص تک اسلام کا پیغام پہنچا کر انتہائی آسانی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں، نیز جو لوگ مذہب اسلام سے اس قدر متنفر ہیں کہ اسلام کے متعلق کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور نہ ہی کسی مسلمان کا سامنا کرنا پسند کرتے ہیں، انہیں بھی ان جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دین اسلام کی طرف دعوت دے کر دائرہ اسلام میں داخل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح دشمنان اسلام کی جانب سے مذہب اسلام کے خلاف جو ریشہ دوانیاں اور زہرافشانیاں کی جا رہی ہیں، ان ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے مذہب اسلام کا دفاع کرتے ہوئے دشمنان اسلام کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور عوامی اعداءِ اسلام کی جانب سے جو بد گمانیاں اور غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ان کو دور کر سکتے ہیں نیز اللہ رب العالمین کا فرمان { الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر} کے تحت نیکی کے فروغ اور معصیت پر روک کے لئے ان ذرائع کا استعمال کر کے ہم اللہ عزوجل کی قربت اور اجر عظیم کے حقدار بن سکتے ہیں،
           الحمدللہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آج بہت سے لوگ فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ علمائے کرام اور داعیان اسلام کی تعلیمات کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ نشر و اشاعت کر رہے ہیں نیز لوگوں کی ذہن سازی اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعات و سیئات پر قدغن لگانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے نقصانات

        سوشل میڈیا کے استعمال میں جہاں ہمارے لئے بے شمار فوائد  مضمر ہے وہیں اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں، جہاں اس کا استعمال خیر و بھلائی کے لئے کیا جاتا ہے وہیں اس کا استعمال شر و برائی کے لئے بھی کیا جارہا ہے اور نوجوان نسل کی فکر و نظر، سوچ اور ذہن کو اس کے ذریعہ مغربی تہذیب و ثقافت میں مسخر کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے آج معاشرے میں فحاشی و عریانیت اور رقص و سرور بالکل عام ہو چکی ہے، ہمارا مسلم معاشرہ بے شمار ذنوب ومعصیت میں غرق ہوتا چلا جا رہا ہے اور ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات دم توڑ چکی ہے ۔
آج بالخصوص ہماری نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کا استعمال غلط مقاصد کے لئےکر رہی ہے، ہمارے معاشرے کے وہ بچے جن کو کتب خانوں اور لائبریریوں میں ہونا چاہیے وہ موبائل فون ہاتھوں میں لئے گلی کوچوں کی زینت بنے پھر رہے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال اور تعلیم پر کم توجہ نیز اسلامی تعلیمات سے کنارہ کشی کی وجہ سے ہمارے سوسائٹی میں مختلف قسم کے ناقابل ذکر اور حرام و ناجائز واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔

خلاصۂ کلام

               آج کی ٹیکنالوجی انقلاب اور سوشل میڈیا نے انسان کی ترقی کے منازل کو تو آسان ضرور کر دیا اور انسانی زندگی میں اس کے فوائد بھی کچھ کم نہیں، مگر انسان کی منفی سوچ، انداز فکر اور ان ذرائع کا غلط استعمال کی وجہ سے سماج و معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ تباہی اور ہلاکت خیزی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہمارا سماجی، معاشرتی اور دینی اقتدار آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے، اگر کہا جائے تو معاشرہ وسماج موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے
اس بگاڑ کا سبب کوئی اور نہیں خود انسان ہی ہے اس لئے کہ سوشل میڈیا کے دو پہلو ہیں مثبت اور منفی جو شخص اس کا استعمال مثبت طریقے سے صرف اس کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیئات اور گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اور بہترین مقصد کے لئے کرے گا تو اللہ رب العالمین اس کے اس عمل خیر کی بدولت اسے اجر عظیم سے نوازے گا، سوشل میڈیا کا استعمال مطلق طور پر برا اور نقصان دہ ہرگز نہیں اگر ہم اسے برے استعمال میں نہ لائیں .


               🖋
              
                راضی

اتوار، 23 مئی، 2021

جمہوریت کی تعریف

    روئے زمین پر جہاں بہت سے بڑے بڑے مشہور و معروف ممالک ہیں انہیں میں سے ایک ہمارا ملک ہندوستان بھی ہے، جس میں مختلف قوم و ملت اور تہذیب و تمدن سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، جہاں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں، یہاں کا قانون جمہوری ہے جس کے تحت تمام قسم کے باشندوں کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔

جمہوریت کی لغوی تعریف

             جمہوریت کا لفظ عربی زبان کا لفظ الجمهور سے ماخوذ ہے جوکہ لغوی مفہوم کی بنیاد پر معروف ہوا، اس کا معنی ہے " بلند تر" اور " اکثریت" اور یہ انگریزی زبان کا لفظ ڈیموکریسی (Democracy) کے متابادل کے طور پر بولا جاتا ہے، اور ڈیموکریسی (Democracy) یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جو ڈیموکریساں سے مشتق ہے، جو کہ دو لفظوں سے مرکب ہے، ایک ڈیمو جس کا معنی ہے لوگ، اور دوسرا کریساں اسکا معنی ہے طاقت و اقتدار
اس طرح جمہوریت کا معنی ہوا لوگوں کی طاقت یا لوگوں کا اقتدار  ۔

جمہوریت کی اصطلاحی تعریف

             عوام میں ڈیموکریسی کی جو سب سے مشہور اور عام تعریف ہے وہ یہ کہ : (democracy is a government of the people by the people and for the people ' عوام کی ایسی حکومت جو عوام کی بنائی ہوئی ہو اور عوام کے لئے ہو'  
اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ایسا نظام حکومت جس میں اقتدار کی باگ ڈور عوام کے ہاتھوں میں ہو نہ کہ کسی ایک شخص یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں ۔
               موجودہ دور میں اگر دیکھا جائے تو دنیا جمہوریت کو تہذیب و تمدن کی علامت و شناخت اور فطری طرزِ حکومت کے طور پر تسلیم کر چکی ہے، دنیا کے اکثر ممالک میں جمہوری نظام قائم ہو چکا ہے اور جہاں اب تک جمہوری قانون نافذ نہیں ہے وہاں بھی جمہوری قانون کے نفاذ کے لئے جدوجہد جاری ہے ۔

آج کی جمہوریت

               دنیا کو جمہوریت سے جو توقعات و امیدیں وابستہ تھیں وہ آج تک پوری نہ ہوسکیں، شاید اس کا سبب یہ ہو کہ جمہوریت کے علمبرداروں اور اس کا خیرمقدم کرنے والوں نے درحقیقت اس کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں اور خود اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ اس نظام کے جاری ہوتے ہی خود بخود چہارجانب عدل و انصاف اور آزادی و مساوات کا دور دورہ ہو جائے گا اور ہر طرف دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی، مگر یہ ان کا ایک ایسا خواب تھا جو آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور نہ ہی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے، دوسرا سبب یہ ہے کہ اس نظام کو نافذ کرنے والوں نے حقیقت میں اس کا نفاذ کیا ہی نہیں، کیونکہ جمہوریت کے کچھ تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے جو حوصلہ درکار ہے وہ کلی طور پر مفقود ہے، بلکہ ہم نے صرف جمہوری انداز کی تقریبات کے انعقاد کو ہی جمہوریت سمجھ لیا ہے.

           🖋

            راضی 

منگل، 11 مئی، 2021

تعلیم نسواں

      ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے، تعلیم ہی قوم کے احساس و شعور کو نکھارتی ہے، اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اور پھر تعلیم تو ہماری بنیادی ضرورت بھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان { إِقْرَأْ باِسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ} [ العلق: ٩٦/ ٢٩٧] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی: { طلب العلم فريضة على كل مسلم} [ معجم الاوسط: ٢/ ٢٩٧] اسی بنیادی نکتہ اور ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور اسی کو بنیاد سمجھ کر معاشرے کی تعمیر کا حکم دیتا ہے۔

تعلیم نسواں کی اہمیت

              کتاب و سنت میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علم انسان کو اعلی مقام پر فائز کر دیتا ہے، علم انسان کے اخلاق و کردار میں پاکیزگی، اخوت و محبت اور رحم و مروت کے جذبات پیدا کرتا ہے،
آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فوقیت علم ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی، اللہ عزوجل نے موسی علیہ السلام کو خضر کی جانب ان کی علمی فضیلت کی وجہ سے بھیجا، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی ہی وحی میں إِقْرَأْ کے ذریعہ علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کو صحابیات کے درمیان پہلا اور صحابہ کرام کے مابین چوتھا نمبر ان کی علمی لیاقت کی وجہ سے ملا، رابعہ بصری کی شہرت و عظمت کا سبب ان کی علمی لیاقت بنی، دور حاضر میں بھی دیکھا جائے تو آپ بہت سی ایسی عورتوں کو پائیں گے جو اپنی علمی و فنی لیاقت کی وجہ سے بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہیں،
           چنانچہ بقدرِ ضرورت تعلیم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو تعلیم کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا { من كان له جاريه وفعالها فأحسن إليها ثم أعتقها وتزوجها كان له أجران} [ صحيح البخاري: ٢٥٤٤] ' اگر کسی کے پاس کوئی لوڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس کی شادی کر دے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے'
لہذا تعلیم نسواں کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اتنی دلیلیں کافی ہے، پھر بھی اس دور میں تعلیم نسواں کا مسئلہ مختلف فیہ بنا ہوا ہے، ایک گروہ تو سرے سے ہی اس کی افادیت کا منکر ہے، تو دوسرا گروہ بغیر کسی پابندی کے عورتوں کو ہر قسم کی تعلیم دلانے کا طرفدار ہے ۔

تعلیم نسواں کے فوائد

       اس مسلمہ حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ عورتوں کی  وجہ سے ہی نسلوں کا مقدر سنورتا ہے اور قوم کی اصلاح ہوتی ہے، اور اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے،
شاعر کہتا ہے:
               وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ
               اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزدروں
انسان کی تعلیم و تربیت میں عورت کا بڑا ہی اہم کردار ہوتا ہے، کیونکہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں اس کی تعلیم و تربیت کی بنیاد پڑتی ہے جس پر اس کے مستقبل کی عمارت تعمیر ہوگی، اگر عورت تعلیم یافتہ ہے تو بچے شعور کی منزل تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں اور ایک اسلامی اور پرسکون ماحول میں پرورش پاتے ہیں، انہیں ان کے والدین بالخصوص ماں کی توجہ اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے، جو ہر قدم پر انہیں صحیح راستہ دکھاتی ہے، ان کے جائز خواہشات کا احترام کرتی ہے، انہیں صحیح اور غلط کا فرق بتاتی ہے، شوہر اور بچوں کے تئیں حقوق کی ادائیگی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے، ایسی صورتحال میں بچے ایک خوش کن ماحول میں پرورش پاتے ہیں اور پھر ایک مکمل انسان کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں،
اس کے برعکس اگر ماں کی تعلیم ہی ناقص ہو، وہ خود غیر تعلیم یافتہ، جاھل واجڈ ہو، تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس کے بچے کیسے ہوں گے؟
            اسی طرح جب تعلیم یافتہ عورتیں خاتون خانہ بن کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں تو خاندان کو غیر معمولی استحکام حاصل ہوتا ہے، اس لیے کہ عورت بیوی، ماں، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے گھر کی زینت ہوتی ہے، اسے"ربة البیت" کہا گیا ہے، اس کے کندھوں پر گھریلو امور کی ساری ذمہ داریاں ہوتی ہے،
اسی طرح تعلیم یافتہ عورتیں باظابطہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں، تعلیم یافتہ والدین کی اولاد بھی تعلیم یافتہ ہوتی ہے، تعلیم عورتوں کو نہ صرف روزگار میں بہتر مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ بہتر معیاری زندگی اور خوشحالی کا سامان بھی فراہم کرتی ہے ۔

تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر...

            تعلیم نسواں کے بہت سارے فوائد ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ نقصانات بھی سامنے آتے ہیں، لیکن ھاں! اگر میں یہ کہوں تو بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ یہ نقصانات بھی دراصل تعلیم حاصل کر لینے کی وجہ سے نہیں ہے، کیونکہ تعلیم بذات خود کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ہے، بلکہ تعلیم کا غلط اور بے جا استعمال عورتوں کو گمراہ کر رہا ہے
           دور جدید میں عورتوں نے تعلیم حاصل کرکے اپنے اوپر فیشن کا خول چڑھا لیا ہے، تو یہ ان کی اخلاقی کمزوری ہے، تعلیم حاصل کر لینے کی وجہ سے یہ نقصان ہرگز نہیں، تعلیم کے غلط استعمال نے آج عورتوں کو اس ذلیل مقام پر پہنچا دیا ہے کہ آج کل کی عورتوں کو دیکھ کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کی کوکھ سے پیغمبروں نے جنم لیا، جسے شرم و حیا کے پیکر کا خطاب دیا گیا، تعلیم کے غلط اور بے جا استعمال نے لڑکیوں کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ وہ یہاں کی صاف و شفاف اور پاکیزہ ہوا کو بھی آلودہ کر رہی ہیں، وہ یہ نہیں سوچتیں کہ وہ اپنے آپ کو ترقی کی جس راہ پر لے جا رہی ہیں وہ روشنی کا مینار نہیں بلکہ تاریکی کا عمیق گڑھا ہے،
خوب کہا ہے شاعر نے:
                وه اندھیرا ہی بھلا تھا کہ ہم راہ پہ تھے
                روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں محتاط نقطۂ نظر رکھنے والے مفکرین اور دانشوروں کا ماننا ہے کہ عورتوں کو بس واجبی تعلیم دینی چاہیے، جس سے وہ اپنے گھر، خاندان اور بچوں کی تربیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہٗ ادا کر سکیں، اس لیے کہ لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلانے کا ایک مہلک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ Qualified ( سند یافتہ) ہو جانے کے بعد ان میں غیر ضروری خود اعتمادی، خودمختاری اور انا پرستی کے عناصر گھر کر جاتے ہیں جو آگے چل کر ان کی پرسکون ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، 
کیونکہ ہر معاملے میں عورت اپنی رفیق حیات سے بر تر ہونے کی کوشش کرتی ہیں، انہیں ہر لمحہ اپنی تعلیم یافتہ ہونے کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر معاملہ میں برتری کی خواہاں ہوتی ہیں اور یہ چاہتی ہیں کہ ان کی ہر بات کو تسلیم کیا جائے اور نتیجے میں معاملہ دھیرے دھیرے گمبھیر  ہوتا چلا جاتا ہے پھر آخر کار طلاق کی نوبت آجاتی ہے، 
          جب کہ ہر صاحب عقل و دانش کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی حقیقی کامیابی اس کی پرسکون و خوشگوار ازدواجی زندگی ہے، چنانچہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے { الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوْا مِنْ أَمْوَالِهِمْ} [ النساء: ٤/ ٣٤] ' مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ وہ عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں' ۔ 

حرف آخر

            اسلام خواتین کی تعلیم کا نہ صرف حامی و طرفدار ہے بلکہ انہیں اس معاملہ میں مردوں سے کمتر بھی نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن ہاں! عورتوں کی تعلیم ان تمام حدود و قیود کے زیر سایہ میں رہ کر ہوگی جو اسلام نے ان کے لئے مقرر کیا ہے، انہیں شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا جائے گا اور نہ ہی انہیں عضو معطل سمجھ کر تعلیم سے محروم کر دیا جائے گا، بلکہ حالات اور معاشرے کی درپیش ضروریات کو سامنے رکھ کر ان کے لئے علیحدہ تعلیمی نظام بنایا جائے، مخلوط تعلیمی نظام کی وجہ سے عورتوں میں جو اخلاقی انحطاط و گراوٹ آرہی ہے اس کے لئے تعلیم نہیں بلکہ آزادانہ تعلیمی نظام ذمہ دار ہے. 
 

                 🖋
                 راضی 

جمعہ، 7 مئی، 2021

اصلاح معاشرہ کے بنیادی اصول

 اصلاح معاشرہ انسانی زندگی کی ڈاواں ڈول کشتی کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے ایک بہت ہی اہم ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف تنظیمیں، تحریکوں، مفکرین و مقررین، علماء، دانشورانِ قوم و ملت، اصلاحی اور سماجی خدمات پر مامور شخصیات کی تقریروں اور تحریکوں کا خلاصہ یہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کی صالحیت کو کس طرح برقرار رکھا جائے،
اس سلسلے میں ممبر و محراب سے لیکر اسٹیج تک، قرطاس و قلم سے لے کر اخبارات اور تصنیفات و تالیفات تک، ہر جگہ اصلاح معاشرہ پر زور دیا جا رہا ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی خاص اصلاح نظر نہیں آتا، اس لئے ضروری ہے کہ اگر ہم معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں ان تعلیمات اور اصولوں کو اختیار کرنا ہوگا جو قرآن و سنت میں وارد ہے، مزید اُس طریقے کو بھی اپنانا ہوگا جس پر چلتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی معاشرہ کی اصلاح کی تھی۔
قارئین کرام! تو آئیے اب ہم اصلاح معاشرہ کے چند بنیادی اصول پر نظر ڈالتے ہیں۔

1 :  اللہ واحد کی عبادت

                 توحید باری تعالیٰ کا صدق دل سے اقرار اور شرک سے براءت کا اظہار کرنا صالح معاشرہ کی پہلی اور سب سے اہم بنیادی ضرورت ہے، اسی بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز توحید باری تعالیٰ سے ہی کیا تھا جیسا کہ فرمایا: { قُولو لا إلٰه إلاّ الله تفلحوا} [ شعيب الأرنؤوط: ت ١٤٣٨] (إسناده صحیح) ' تم سب اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (یہ اقرار کر لو گے) تو تم سب کامیاب ہو جاؤ گے' 
سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 61 اور 63 میں اللہ رب العالمین نے اسی کی وضاحت فرمائی ہے کہ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس بات کو بھی دل سے تسلیم کیا جائے کہ معبود برحق صرف اللہ رب العالمین کی ذات ہے، تمام عبادتوں کے لائق وہی ہے اور ہر قسم کی عبادات اسی کے لئے حق ہے، نماز، روزہ، حج، زکوۃ، قربانی، نذر و نیاز، رکوع و سجود، استغاثہ، استعانت، امید و رجاء، خوف وخشیت، توکل، دعا، عاجزی و انکساری، عقیدت و محبت
الغرض یہ کہ تمام تر عبادات صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہونی چاہیے۔

2 : صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت

                    اسلامی معاشرہ کے افراد بحیثیت مسلمان اللہ تعالی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کریں اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کریں، تاکہ معاشرہ کی صالحیت و پاکیزگی برقرار رہے، اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: { يَآ أَيُّها الَّذِيْنَ آمَنُوْا أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا أَعْمَالَكُمْ} [ محمد ٤٧/ ٣٣] ' اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرو، اور اپنے اعمال کو ضائع مت کرو'
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:{ تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض} [ صحيح الجامع: ٢٩٣٧] ' میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہونگے، ایک ہے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) اور دوسری ہے میری سنت اور یہ دونوں کبھی جدا جدا نہیں ہوگی، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آجائیں گے،
لہذا آج بھی کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اس کی اصلاح ہو سکتی ہے، جب تک کہ اس میں بسنے والے تمام لوگ پورے اخلاص کے ساتھ کتاب و سنت کو اپنا دستور حیات نہ بنا لیں ۔

3 : اتحاد و اتفاق

               اسلامی معاشرہ کی اصلاح کے لئے ایک اہم ضرورت اتحاد و اتفاق بھی ہے کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی مسئلے میں تنازع ہو جائے تو وہ اسے کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں حل کریں، اور کتاب اللہ وسنت رسول کو اپنی زندگی سے کبھی مفقود نہ ہونے دیں، بلکہ اسی پر جم جائیں، اللہ تعالی فرماتا ہے: { وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ} [ آل عمران: ٣/ ١٠٣] ' تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور فرقوں میں مت بٹو، اور اپنے اوپر کی ہوئی اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی اور تم اس کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن گئے، اور( یاد کرو جب) جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا، اسی طرح اللہ رب العالمین تمہارے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پا جاؤ ۔
اور شاعر کا قول:
               متحد  ہو  تو  بدل  ڈالو  نظام  گلشن
               منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو  (اقبال)

4: تعاون اور خیر خواہی

کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کے لئے ایک اہم اور بنیادی سبب آپسی تعاون اور خیر خواہی بھی ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: { وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [ المائدة: ٥/ ٢] ' تم  نیکی اور تقوی کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو' 
چنانچہ اولین اسلامی معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کی نیکی اور تقوی کی بنیاد پر مدد کرنے لگے اور ایسی مدد کہ قیامت تک اس جیسی مثالیں پیش کرنا ممکن نہیں ہے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد الواحد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى} [ صحيح مسلم: ٢٥٨٦] ' مومنوں کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے، ایک دوسرے پر ترس کھانے، اور ایک دوسرے پر شفقت کرنے میں ایک جسم کے مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے لئے بخار  کے ساتھ تڑپ اٹھتا ہے اور اس کی وجہ سے بیدار رہتا ہے' 
اور دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  { المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته} [ صحيح البخاري : ٢٤٤٢]' مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے، وہ نہ تو اپنے مسلمان بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے حوالے کرتا ہے، اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ رب العالمین اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے' ۔

5: عفت و پاکدامنی 

اسلامی معاشرہ کی صالحیت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی عزت و عصمت کے محافظ ہوں، وہ کسی کی ماں، بہن، اور بیٹی کی طرف غلط نظروں سے نہ دیکھیں، بلکہ وہ ہر غیر محرم عورت سے اپنی نظریں جھکائے رکھیں، کیونکہ اللہ رب العالمین کا یہی حکم ہے: { قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ أَزْكَى لَهُمْ} [ النور: ٢٤/ ٣٠] ' آپ مومنوں کو حکم دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے' اسی طرح جو لوگ معاشرے کی صالحیت کو داغدار کرتے ہیں  ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید سناتے ہوئے اللہ عزوجل کا فرمان آیا : { إِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ أَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} [ النور: ٢٤/ ١٩] ' جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیل جائے ان کے لئے یقینا دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ رب العالمین کو سب کچھ معلوم ہے حالانکہ تم نہیں جانتے'

6: امر بالمعروف و نہی عن المنکر

 اصلاح معاشرہ کے لئے بنیادی اور اہم ضرورت امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا بھی ہے اور اس چیز کا ہمیں حکم بھی دیا گیا ہے، اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا: { كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ} [ آل عمران: ٣/ ١١٠] ' تم بہترین امت ہو، جسے لوگوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ' 
                اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے، تو ہمیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہوگا ۔
قارئین کرام ! اس کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں جو اصلاح معاشرہ کے لئے کارگر ہیں، جسے ہم نے مضمون کی طوالت کے ڈر سے تحریر نہیں کیا. 
 اخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیشہ ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے.
( آمین) 


       🖊
       راضی 

 

کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے

دیوالی کی مٹھائی سوال : کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے ؟ جواب : اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارک باد ...