عصریات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عصریات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 مئی، 2021

جمہوریت کی تعریف

    روئے زمین پر جہاں بہت سے بڑے بڑے مشہور و معروف ممالک ہیں انہیں میں سے ایک ہمارا ملک ہندوستان بھی ہے، جس میں مختلف قوم و ملت اور تہذیب و تمدن سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، جہاں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں، یہاں کا قانون جمہوری ہے جس کے تحت تمام قسم کے باشندوں کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔

جمہوریت کی لغوی تعریف

             جمہوریت کا لفظ عربی زبان کا لفظ الجمهور سے ماخوذ ہے جوکہ لغوی مفہوم کی بنیاد پر معروف ہوا، اس کا معنی ہے " بلند تر" اور " اکثریت" اور یہ انگریزی زبان کا لفظ ڈیموکریسی (Democracy) کے متابادل کے طور پر بولا جاتا ہے، اور ڈیموکریسی (Democracy) یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جو ڈیموکریساں سے مشتق ہے، جو کہ دو لفظوں سے مرکب ہے، ایک ڈیمو جس کا معنی ہے لوگ، اور دوسرا کریساں اسکا معنی ہے طاقت و اقتدار
اس طرح جمہوریت کا معنی ہوا لوگوں کی طاقت یا لوگوں کا اقتدار  ۔

جمہوریت کی اصطلاحی تعریف

             عوام میں ڈیموکریسی کی جو سب سے مشہور اور عام تعریف ہے وہ یہ کہ : (democracy is a government of the people by the people and for the people ' عوام کی ایسی حکومت جو عوام کی بنائی ہوئی ہو اور عوام کے لئے ہو'  
اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ایسا نظام حکومت جس میں اقتدار کی باگ ڈور عوام کے ہاتھوں میں ہو نہ کہ کسی ایک شخص یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں ۔
               موجودہ دور میں اگر دیکھا جائے تو دنیا جمہوریت کو تہذیب و تمدن کی علامت و شناخت اور فطری طرزِ حکومت کے طور پر تسلیم کر چکی ہے، دنیا کے اکثر ممالک میں جمہوری نظام قائم ہو چکا ہے اور جہاں اب تک جمہوری قانون نافذ نہیں ہے وہاں بھی جمہوری قانون کے نفاذ کے لئے جدوجہد جاری ہے ۔

آج کی جمہوریت

               دنیا کو جمہوریت سے جو توقعات و امیدیں وابستہ تھیں وہ آج تک پوری نہ ہوسکیں، شاید اس کا سبب یہ ہو کہ جمہوریت کے علمبرداروں اور اس کا خیرمقدم کرنے والوں نے درحقیقت اس کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں اور خود اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ اس نظام کے جاری ہوتے ہی خود بخود چہارجانب عدل و انصاف اور آزادی و مساوات کا دور دورہ ہو جائے گا اور ہر طرف دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی، مگر یہ ان کا ایک ایسا خواب تھا جو آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور نہ ہی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے، دوسرا سبب یہ ہے کہ اس نظام کو نافذ کرنے والوں نے حقیقت میں اس کا نفاذ کیا ہی نہیں، کیونکہ جمہوریت کے کچھ تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے جو حوصلہ درکار ہے وہ کلی طور پر مفقود ہے، بلکہ ہم نے صرف جمہوری انداز کی تقریبات کے انعقاد کو ہی جمہوریت سمجھ لیا ہے.

           🖋

            راضی 

ہفتہ، 24 اپریل، 2021

سیکولرزم کی حقیقت

 قارئین! اس تحریر میں بات کی جائے گی سیکولرزم کی حقیقت کے بارے میں کہ سیکولرزم کیا ہے، اسکا آغاز کہاں ہوا اور کیسے ہوا ؟

 سیکولرزم کیا ہے ؟

                 سیکولرزم در اصل ایک ماسونی یہودی تحریک ہے جن کا مقصد حقوقِ انسانی، مساوات، آزادی، تحقیق و ریسرچ، قانون عدولی ( International law) اور تعلیم کے نام پر دین کو تمام شعبہ جات سے نکال دینا اور مادیت کا گرویدہ بنا کر روحانیت سے بیزار کر دینا یہ کہ کر کہ دین کی پیروی انسانی آزادی کے خلاف ہے لہذا سیاست اور دین، معیشت اور دین، معاشرت اور دین یہ سب الگ الگ چیزیں ہیں، دین طبیعت اور فطرت کے منافی ہے لہذا کسی بھی دین کی پیروی درست نہیں
ان کی صورت حال ایسی ہی ہے جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے :
(وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إلى مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ وَإلى الَّرسُوْلِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا) {النساء :16} 'جب ان سے کہا جاتا ہے اس چیز کی طرف آجاؤ جسے اللہ نے نازل کیا (یعنی دین اسلام) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی (تعلیمات) کی طرف تو تم دیکھو گے منافقوں کو کہ وہ لوگوں کو آپ (شریعت محمدیہ) پر عمل کرنے سے روک رہے ہوں گے

         :   یہاں مضارع کا صیغہ یصدون لانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ ھی تک خاص نہیں ہے بلکہ استمرار کے ساتھ ہر زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر آگے صدودا کہ کر اشارہ کر دیا کہ وہ اس پر مُصِر بھی ہوں گے

سیکولرزم کا آغاز کہاں اور کیسے ہوا؟

             سیکولرزم اصل میں یورپ کا ایجاد کردہ ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب اسلام نے آکر تعلیم کے دروازے کھولے اور اسلام کا اثر و رسوخ مشرق سے نکل کر مغرب میں غرناطہ اور بوسنیا تک پہنچا تو اھل مغرب کی آنکھیں کھلیں،  اس لئے کہ سولہویں صدی عیسوی تک یورپ میں کلیسا اور چرچ کو مکمل اثر و رسوخ حاصل تھا، 
جب سترہویں صدی عیسوی میں اھل یورپ نے مسلمانوں کی علمی آزادی اور ترقی کو دیکھا اور اسی کے ساتھ ساتھ عیسائیوں، پادریوں اور بادشاہوں کی تنگ نظری اور تعصب کو دیکھا اور اسکے نتیجے میں علمی تحقیقات پر پابندی اور کوئی رائے پیش کرنے والے کو ظلم کا شکار ہوتے دیکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ دراصل عیسائیت ھی ھمارے ترقی کے لئے رکاوٹ اور روڑا ہے 
لہذا سترہویں صدی عیسوی میں اھل مغرب نے مذہب سے بیزاری کا اعلان کر دیا، اور یہی  چیز پسِ پردہ دیں کی خفیہ ترین تخریبی تحریک ماسونیت  کی کارستانیوں اور سازشوں کا نتیجہ تھا، 
اس طرح سے جب ان سیکولرزم کے حاملین کو کامیابی ملی تو انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ اب عقل کو آزادی حاصل ہو گی اور دین و مذہب کے قید و بند سے انسان آزاد ہوگا اور طبیعیت و نیچریت کا بول بالا ہوگا. 



        🖊
        
        راضی 

بدھ، 21 اپریل، 2021

پارلیمنٹ کیا ہے؟

پوری دنیا میں ہر دیش کا اپنا اپنا پارلیمنٹ ھوا کرتا ہے، ذیل کے سطور میں پارلیمنٹ کا مختصر تعارف کیا گیا ہے
قارئین! قانون ایک عظیم مرکز  و محور ہے جس کے ارد گرد قوم وملت کے عروج و زوال کی چکی گردش کرتی ہے اس کے دامن میں امن و آشتی،الفت و محبت پروان چڑھتے ہیں قانون عدل و انصاف کا بے مثال ترازو ہے، اس لئے ہر شخص کو اپنے ملک کے آئین کی معرفت لازم اور ضروری ہے تاکہ اپنےتئیں حقوق سے باخبر رہے اور اسے بروئے کار لاتا رہے                             
               :  دورحاضر میں دنیا کا ہر ملک قانون کے کسی نہ کسی زنجیر سے بندھا ہوا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ملک کا نظام حکومت دوسرے ممالک سے کافی مختلف ہوتا ہے
موجودہ دور میں دنیامیں چارطرح کی حکومتیں رائج ہیں
1 -  بادشاہت (Monarchy)
2-   فوجی نظام (Dectation ship)
3-   اشتراکیت  (Communism)
4-   جمہوریت  ( Democracy)
چوتھی قسم (جمہوریت) کا نظام حکومت میں حکومت کی باگ ڈور عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے، البتہ نمائندوں کے انتخاب میں عوام پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہوتی، اظہارِ رائے کی آزادی ہوتی ہے، عوام الناس کے فیصلوں کو ھی اھمیت دی جاتی ہے، غرض یہ کہ جمہوری نظام میں مذہبی، سیاسی، سماجی، معاشی، اقتصادی اور لسانی ہر طرح کی آزادی پائی جاتی ہے اور یہی وہ نظام ہے جو ھمارے ملک ھندوستان میں رائج ہے
ھندوستانی نظام حکومت کی داستان، پارلیمانی جمہوریت، قانون ساز اداروں کی ابتداء برطانیہ کے ساتھ دو سو سال تک ھندوستان کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہے لیکن یہ سمجھنا بالکل غلط ہوگا کہ برطانوی اداروں کو وھاں سے لاکر جوں کا توں ھندوستان میں قائم کر دیاگیا،بلکہ ھندوستانی پارلیمنٹ اور پارلیمانی اداروں کا قیام خود ھندوستان کی سرزمین پر ہوا ہے
جمہوریت کی تعریف
جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کا حق خود اختیاری اور انسانی ذہن کی اختراعی اور معقولیت میں یقین رکھنا ہے،
جمہوریت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص بلا لحاظ ذات، نسل و رنگ یا  جنس نیز اس کی تعلیمی اور معاشی سطح یا پیشہ ورانہ منظر کا لحاظ کئے بغیر اپنا نظم و نسق کرنے اور اپنی پسند کے مطابق اپنے معاملات سے نبرد آزما ہونے کا اھل ہونا ہے ۔       

پارلیمنٹ کی اصطلاح
پارلیمانی کی اصطلاح ایک ایسی جمہوری معاشرہ کی نشاندہی کرتی ہے جس میں اقتدار عوام کے نمائندوں کی جماعت (جسے ہم پارلیمنٹ کہتے ہیں) کے ہاتھوں میں ہوتا ہے پارلیمانی نظام وہ ہے جس میں مملکت کے نظم و نسق کے معاملہ میں پارلیمنٹ کو سب ترجیح حاصل ہوتی ہے، ھندوستانی آئین میں وفاقی مقنّنہ کو پارلیمنٹ کہتے ہیں یہ وہ محور ہے جس پر ملک کا سیاسی نظام گردش کرتا ہے
ھندوستانی پارلیمنٹ
          ھندوستان کی پارلیمنٹ، صدرِ جمہوریہ اور دو ایوان راجیہ سبھا اور لوک سبھا پر مشتمل ہے. (لوک سبھا کے بارے میں مزید جانکاری کے لئے یہاں کلک کریں

      🖊
      راضی

ہفتہ، 17 اپریل، 2021

لوک ‏سبھا ‏کا ‏مطلب‎

سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں ایک راجیہ سبھا اور دوسرا لوک سبھا کے نام سے جانا جاتا ہے
عوام لوک سبھا کا راست انتخاب کرتے ہیں، دستور کے مطابق لوک سبھاکی تشکیل ریاستوں کے 530علاقائی
حلقوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے زیادہ سے زیادہ بیس عوام کے راست چنے ہوئے نمائندوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور ان کا انتخاب پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہوگا، ان کے علاوہ صدر جمہوریہ اینگلوانڈین برادری کی نمائندگی کے لئے زیادہ سے زیادہ دو ارکان نامزد کر سکتا ہے،    لوک سبھا کی پہلی بیٹھک کی متعین تاریخ سے اسکی        میعاد پانچ سال مقرر کی گئی ہے، پانچ سال مکمل ہونے کے ساتھ ایوان تحلیل ہو جاتا ہے، ھاں! بعض صورتوں میں ایوان کو اس کی  تکمیلِ میعاد سے پہلے ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے جب ہنگامی حالات (Emergency) نافذ ہو تو پارلیمنٹ لوک سبھا کی میعاد میں توسیع کر سکتی ہے مگر ایک وقت میں اسکی میعاد ایک سال سے زیادہ نہیں بڑھا سکتی ایمرجینسی کے خاتمے کے بعد کسی بھی حالت میں چھ مہینہ سے زیادہ توسیع نہیں کی جا سکتی

        نئی لوک سبھا کے انتخابات کی تکمیل وتشکیل کے بعد صدر جمہوریہ اس پارٹی یا پارٹیوں کے قائد کو حکومت سازی کی دعوت دیتے ہیں جسے لوک سبھا کے ارکان کے نصف سے زائد کی حمایت حاصل ہو
اس طرح صدرِ جمہوریہ وزیراعظم کا تقرر کرتے ہیں، اور وزیراعظم کے مشورہ سے صدر جمہوریہ دیگر وزراء کا تقررکرتے ہیں
             واضح رہے کہ وزیراعظم کے تقرر میں صدر جمہوریہ کے شخصی پسند کی بہت ھی کم گنجائش ہے الا کہ صورت ایسی ہو کہ لوک سبھا میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی ہو تو صدر جمہوریہ کے پاس وزیراعظم کے انتخاب کرنے میں شخصی فیصلہ کرنے کا حق ہوتا ہے جسے اسکی رائے میں ایوان کی اکثریت کی تائید حاصل ہوتی ہے.
                                                              

                                                                🖋
                                                                راضی

کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے

دیوالی کی مٹھائی سوال : کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے ؟ جواب : اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارک باد ...