تفہیمات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تفہیمات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 11 اگست، 2021

اسلامی حدود رحمت یا زحمت

  

Islamic photos

 اسلام خالق کائنات، مالک ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ ایک عالمگیر اور اعتدال پسند مذہب ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ظلم و زیادتی، فساد و تخریب، دہشت و تشدد، بے حیائی و بے پردگی جیسی مضرات و زیاں کار چیزوں سے اپنے متبعین کو دور رہنے کی تلقین کرتا ہے فرمان الہی ہے { وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاْحِهَا } [ الاعراف: ٥٦] ' درستگی کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ' اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { لا ضرر ولا ضرار} [ سنن ابن ماجہ: ٢٣٤٠] یعنی کسی کو کسی طرح کا نقصان پہنچانا روا نہیں ہے خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اخلاقی ہو یا اقتصادی، جانی ہو یا مالی

             سماج میں امن و عافیت، غمگساری و غم خواری، بھائی چارگی و ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے اور انارکی و بے چینی سے محفوظ رکھنے کے لئے جرائم پر سزا و حدود نافذ کیا ہے مثلاً  زنا، قذف ( بہتان تراشی) سرقہ ( چوری ) شرب خمر ( شراب نوشی ) ارتداد یہ وہ جرائم ہیں جن پر قدغن اور قید و بند لگانا سماج کے صلاح وفلاح اور پاکیزگی کے لئے ناگریز ہے اسی لئے اسلام نے باقاعدہ ان جرائم کے ارتکاب کرنے والوں پر سزا متعین کی ہے


             مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان حدود کی وضاحت کردی جائے تاکہ قارئین کو اس حقیقت کا علم ہو جائے کہ یہی وہ حدود شرعیہ ہیں جن کی تنفیذ سے بہت ساری خرابیوں اور برائیوں کا سدباب کیا جاسکتا ہے اور ہر نفس خیر و عافیت کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے نیز ان نصوص کے نوک قلم پر آ جانے کے بعد یہ امر پوری طرح مترشح ہوجائے گا کہ یہ حدود سوسائٹی و سماج کے لئے مکمل طور پر رحمت کا باعث ہیں نہ کہ زحمت کا

حد زنا :


             اسلام نے ان تمام راستوں کو مسدود کرنے کی کوشش کی ہے جو فتنہ و فساد کا پیش خیمہ و شاخسانہ ہو سکتے ہیں اللہ رب العالمین نے فرمایا { وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيْلَاً} [ الإسراء: ٣٢ ] یہ آیت کریمہ اس حقیقت پر واضح دلیل ہے، پھر بھی اگر کوئی اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو شریعت اسلامیہ اس پر حد جاری کرتی ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے { الزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ] [ النور: ٢] ' زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ '
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب زانی پر مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے حد جاری کیا جاتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور اس جیسے گھناؤنے اور قبیح فعل سے اجتناب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں اور اسلام جو کہ ایک آفاقی مذہب ہے اس کے ہر ہر حکم میں کچھ نہ کچھ راز پنہاں ہے، چونکہ زنا نسل انسانی کے اختلاط و اشتباہ کا ذریعہ بنتا ہے اور الفت و محبت، عزت و ناموس کو ختم کرنے کا باعث بھی ہے، جب کہ نسل انسانی کی حفاظت اور احترام انسانیت اسلام کا طرۂ امتیاز ہے اس لئے غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے شہر بدر بھی کرنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے( راوی حدیث زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) { سمعت النبي صلى الله عليه وسلم یأمر فيمن زني ولم يحصن جلد مائة وتغريب} [ صحيح البخاري: ٦٨٣١] ' کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو تو سو کوڑے مارو اور ایک سال کیلئے شہر بدر کر دو'

حد قذف :


             قذف کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے مرد یا عورت پر بغیر کسی دلیل کے زنا کی تہمت لگائے، بہتان تراشی  ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کے تین مفاسد بالخصوص سامنے آتے ہیں :
   ١  فواحش کا عام ہونا
  ٢   پاکیزہ شخص کو ناکردہ گناہ کی گندگی سے آلودہ کرنا
  ٣   یہ عمل عام حياداری کو مخدوش بنا دیتا ہے

             اللہ سبحانہ و تعالی ارشاد فرماتا ہے { وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَاُولٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ} [ النور: ٤] ' جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں ٨٠ کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو یہ فاسق لوگ ہیں

حد سرقہ :


             چوری ایک ایسا جرم ہے جو انسان کو حرام خوری پر آمادہ کر دیتا ہے اور دل چوری کا عادی بن جاتا ہے اور دوسری طرف محنت کش صاحب مال کی بربادی بھی ہے اس لئے اگر مجرم کو سزا نہ دی جائے تو سماج پر ہلاکت خیز اثرات مرتب ہوں گے چنانچہ اسلام نے چوری کرنے والے شخص کا ہاتھ کاٹنے کی سزا متعین کی، ہشام بن عبدالملک نے ایک سال سرقہ کی حد کو معطل کر دیا تھا جس کا رزلٹ یہ نکلا تھا کہ چوری کے واقعات دوگنے ہوگئے چنانچہ اس نے پھر سے چوری کی سزا کو نافذ کیا اور اس کے جاری ہونے کا اعلان ہی جان و مال کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا اور فرمان الہی کی حقیقت { وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَيْدِيَهُمَا جَزَاءَ بِمَا كَسَبَا نَكَالاً مِنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ} [ المائده: ٣٨] واضح اور روشن ہوگئی

حد شرب الخمر :


             ہر طرح کے منشیات کے حرام ہونے میں علمائے امت کا اتفاق ہے کیونکہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے { كل مسکر خمر وكل خمر حرام} [ صحيح البخاري: ٢٠٠٣] ' ہر نشہ آور چیز شراب کی قسموں میں سے ہے اور شراب کی ہر ایک قسم حرام ہے ' چونکہ شراب خوری بذات خود گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے گھناؤنے گناہ کا ذریعہ بنتی ہے اس لئے شریعت اسلامیہ نے اس کی حد چالیس کوڑے متعین کی ہے تا آنکہ عہد فاروقی میں اس جرم پر مکمل بندش کے لئے ٨٠ کوڑے کر دی گئی

حد ارتداد :


             چونکہ ارتداد دین و شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے اور معاشرے میں ذہنی و فکری فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے اس لئے مرتد ہونے کی سزا قتل کر دینا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { لا يحل دم امرء مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وإني رسول الله إلا بإحدى ثلث الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة} [ صحيح ابي داود: ٤٣٥٢، مسلم: ١٦٧٤]

حد حرابہ :


             ڈاکہ زنی کی حد تمام حدوں سے سخت ترین ہے کیونکہ ڈاکہ زنی قتل و خون کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے اللہ رب العالمین فرماتا ہے { اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِيْ الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُّقَتَّلُوْا أَوْ يُصَلَّبُوْا أَوْ تُقَطَّعُ اَيْدِيَهُمْ وَاَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِيْ الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِيْ الْأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ } [ المائده:  ٣٣] ' جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں تو ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں، یا سولی پر چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت و خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

حرف آخر :


             ان حدود و سزا سے بظاہر تو جسم انسانی کو اذیت اور قطع و برید نمایاں ہوتی ہے لیکن درحقیقت سماج و معاشرہ میں طہارت و پاکیزگی، الفت و اخوت، امن و عافیت اور رحمت ہی رحمت ہے جس کا مشاہدہ ماضی سے حاضر تک کیا جا سکتا ہے آج بھی جن ممالک میں شرعی قوانین نافذ ہیں وہاں کے باشندے آرام و اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں.

           اخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہم باشندگان وطن کو حقیقی راحت نصیب فرمائے   ( آمین )




             🖊

             راضی

جمعرات، 29 جولائی، 2021

اخلاق نبوی کے چند شہ پارے

 
شمع، روشن چراغ

اس روئے زمین پر اخلاق و آداب کے بہت سے معلمین پیدا ہوئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں اخلاق کا درس دیا اور ان سے  کئی گروہوں، جماعتوں اور قوموں نے اخلاق و آداب کی تعلیم حاصل کی
آج دنیا میں جہاں کہیں بھی حسن اخلاق کا کوئی نمونہ دکھائی دیتا ہے تو یہ انہیں لوگوں کی تعلیم کا اثر ہے لیکن ان تمام معلمین میں سب سے بڑے، سب سے بہتر، سب سے ممتاز اور آخری معلم ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جن کی پوری زندگی ہم تمام بنی نوع انسان و جن کیلئے آئیڈیل اور نمونہ ہے
لیکن افسوس صد افسوس آج کا مسلمان بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کو چھوڑ کر کسی فلمی اداکار اور سیاسی لیڈر کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ مانتا ہے جبکہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اعلان کر دیاکہ: { اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقا} [ صحيح ابن حبان ٤٧٩] مزید فرمایا : { اكثر مايدخل الناس الجنة تقوى الله وحسن الخلق}  { مسند أحمد ٩٦٩٦، شعیب الأرنؤوط ١٤٣٨] ' کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز اللہ کا تقوی اور بہترین اخلاق ہے' اسی طرح اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ارشاد فرمایا: { وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ} [ القلم ٣، ٤] ' اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ کیلئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور آپ اخلاق کے اعلی مقام پر ہیں

محترم قارئین !  اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو قرآن کریم نے سراہا اور سادہ سی بات ہے کہ سراہنے کے لائق وہی شخصیت ہوا کرتی ہے جس میں کامل اوصاف اور بہترین اخلاق پائے جائیں، اگر سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کسی خاص قوم یا جماعت کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کے لئے ایک نمونہ اور آئیڈیل ہے ایسا کامل انسان نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی آپ کے بعد کوئی پیدا ہو گا

             قرآن مقدس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مذہبی اور دینی کتاب نے اپنے پیشوا اور رہبر کے بارے میں ایسی کھلی شہادت نہیں دی کہ جو عمل کے اعتبار سے اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو لیکن قرآن نے موافقین و مخالفین، دوست و دشمن اور پورے مجمع عام میں ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ اخلاق کے اس بلند مقام پر فائز ہیں جس کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے، اس آیت کریمہ کے دو پہلو ہیں ایک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر کے ختم نہ ہونے کا اعلان ہے اور دوسرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی شہادت ہے یعنی آپ کا اخلاق واعمال خود اس بات پر شاہد ہے کہ آپ کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ دنیا میں محفوظ ہے

             رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں یکسانیت تھی جو کہتے وہ کرتے اور جو کرنا رہتا وہی کہتے مطالعہ کیجیے سیرت کی کتابوں کا آپ پائینگے کہ جب جب آپ نے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے کا حکم دیا تو سب سے پہلے آپ خود بھوکے رہے اور اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دیا، جب کبھی آپ نے لوگوں کو اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کرنے کی نصیحت کی تو سب سے پہلے خود اپنے دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بھی معاف کر دیا جس نے آپ کے کھانے میں زہر ملائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے کسی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا بھی وقت آیا کہ آپ کو کپڑے کی سخت ضرورت تھی اور ایسی حالت میں اگر کسی نے آپ سے کپڑے کے لئے دست سوال دراز کر دیا تو اسی وقت اپنی چادر اتار کر اس کے سپرد کر دی، انہیں اخلاق کریمانہ کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے تمام معلمین اخلاق پر فوقیت حاصل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے سب سے ممتاز معلم کے لقب سے سرفراز کیا گیا کیونکہ جب قول سے پہلے عمل ہوگا تبھی قول مؤثر ہوگا ورنہ رائیگاں اور برباد ہو جائے گا
بقول شاعر  
                  وغير  تقي  يأمر  الناس  باالتقى
                  طيب يعادي الناس و هو  سقيم
                  يا   أيها   الرجل   المعلم   غير ه
                  هلا   لنفسك   كان   ذا   التعليم
                  لا   تنه  أن  خلق  و  تاتي   مثله
                  عار   عليك   اذا   فعلت   عظيم
الله رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سب سے بہتر اور بلند اخلاق کے ساتھ اس لئے مبعوث کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دے سکیں اور ان کی تربیت کر سکیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:{ انما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق} [ مجمع الزوائد ٩/ ١٨، الزرقاني ١١٢٢ ] ' میں خاص کر اس کام کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اپنی تعلیم و عمل سے اخلاق کریمانہ کی تکمیل کروں' اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود تھی جس کی وجہ سے ہر ہر قدم پر کامیابی آپ کے قدم چومتی رہی
سچ ہے " مواعظ الواعظ لن تقبلا حتى يعيها قبله اول"، 


                مکہ فتح ہو جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں قیام فرما ہیں نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو سرداران قریش کھڑے ہیں اس مجمع عام میں وہ بھی موجود تھا جو آپ کے جسم اطہر پر کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے، وہ بھی تھا جو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے، وہ بھی موجود تھا جو اسلام اور اہل اسلام کی بیخ کنی کیلئے خفیہ سازشیں کیا کرتے تھے غرضیکہ اس دن تمام مجرمین سرنگوں ہوکر سامنے کھڑے تھے اور ان کے پیچھے دس ہزار تلواریں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں صرف ایک اشارہ کی دیری تھی کہ تمام مجرمین کا سر دھڑ سے الگ ہو جائے، لیکن اس قدر غلبہ کامل ہونے کے باوجود چہرہ انور اٹھا کر تمام مجرمین سے مخاطب ہوئے اور کہا : "اے قریش بتاؤ ! میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟" قریش ندامت سے سرشار ہیں انہیں ایک ایک جرم یاد آ رہا ہے تاہم رحم و کرم کے ہی منتظر تھے چیخ کر بول اٹھتے ہیں' انت اخ کریم وابن کریم' آپ تو ہمارے شریف بھائی ہیں اور شریف کا بیٹا ہیں' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وہی کہا جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا :' لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين [يوسف:٩٢،أحكام الصغرى: ٥٥٨] 

             اور اس واقعہ کو بھی یاد کیجئے کہ جب قبیلہ بنی مخزوم کی ایک عورت سے چوری کا جرم سرزد ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی قانون کے تحت ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا چونکہ عورت شریف اور معزز خاندان کی تھی اسلئے قبیلہ کے سرداروں نے اسامہ بن زید کو سفارشی بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ سزا معاف کر دی جائے یا پھر سزا میں ترمیم کرکے اس پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو گئے اور فرمایا: { يا اسامة اتشفع في حد من حدود الله تعالى والذي نفسي بيده لو أن فاطمة ابنة محمد  سرقت لقطعت يدها} [ شعيب الارنؤوط: ١٤٣٨،  اسناده صحيح على شرط الشيخين] اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا داعی و معلم بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ وصیت فرمائی { يا معاذ ! احسن خلقك للناس} [ الترغيب والترهيب٣/ ٣٥٧] ' اے معاذ دیکھو !  تم لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنا '
             خادم رسول انس رضی اللہ عنہ جو دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت و صحبت میں رہے فرماتے ہیں کہ اس دس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے اف تک نہیں کہا، سوچئے جو اپنے کسی ماتحت کا اس درجہ خیال رکھتا ہو کہ دس سال کے لمبے عرصہ میں بھی کبھی اف تک نہ کہا ہو تو اس کے اخلاق کریمانہ کا کیا کہنا؟
سچ ہے :     "  بعد از خدا  بزرگ  توئی  قصہ مختصر"
  
              نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کے بارے میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: { کان خلقه القرآن} [ صحيح الجامع: ٤٨١١] ' آپ کا اخلاق سراپا قرآن تھا' یعنی قرآن مجید میں جو کچھ الفاظ کی صورت میں ہے ٹھیک وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں بصورت عمل تھا، قرآن آپ کے اخلاق کریمانہ کا مکمل آئینہ ہے لہذا جس کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واقفیت مقصود ہو وہ قرآن کا بغور مطالعہ کرے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق معلوم ہو جائے گا

            نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ چند اعلیٰ اخلاق کے نمونہ ہیں جن کو میں نے پیش کیا اگر آج بھی ہم ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے لگیں اور ان چیزوں پر خود عمل کرکے دوسروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے لگیں تو آج بھی کوئی بعید نہیں کہ غیر مسلم ہمارے اخلاق دیکھ کر مشرف بہ اسلام نہ ہوں کاش ہم تمام مسلمان اس سچے مذہب کا عملی نمونہ اور تصویر بن جائیں! اور دنیا والوں کو دکھا دیں کہ دیکھو اسلام یہ ہے، اگر ایسا ہو جائے تو مخلوق الٰہی حلقہ بگوش اسلام ہونے میں ذرا بھی توقف نہ کرے گی. 




                   📝

                  راضی 

منگل، 13 جولائی، 2021

فلسفۂ حج

 

کعبہ شریف، کعبہ، بیت اللہ

محترم قارئین : فریضۂ حج اپنے اندر مقصدیت و معنویت، حکمت و مصلحت اور گوناگوں فلسفہ و افادیت رکھتا ہے، جسے راقم نے مختصراً پیش کرنے کی ادنیٰ کوشش کر رہا ہے۔

حج کی لغوی و اصطلاحی تعریف


حج لغت میں قصد و ارادہ کو کہتے ہیں. 
اصطلاح شرع میں متعینہ ایام میں مخصوص افعال و اعمال کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ شریف کا قصد کرنا[ تحفۃ الاحوذی: ج ٣] 
حج اسلام کا پانچواں اور ایک بہت ہی اہم رکن ہے، اللہ رب العالمین نے حج بیت اللہ کو مستطیع لوگوں پر واجب اور فرض قرار دیا ہے فرمایا:{ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلًا} [ اٰل عمران: ٩٧] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: { بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج و صوم رمضان } [ صحيح البخاري: ٨ ] حج بيت اللہ اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جو مالی و بدنی عبادت پر مشتمل ہے، یہ دیگر ارکان اسلام سے منفرد ہونے کے باوجود ارکان اسلام کے تمام ارکان کا خلاصہ ہے، علامہ ماوردی رحمه الله ارکان اسلام کو ذکر کرتے ہوئے حج کو آخر میں ذکر کئے جانے کی وجہ پر زور دیتے ہوئے فرمایا : "حج بیت اللہ اور اس کی ادائیگی میں اسلام کی روحانی تربیت کا پورا نچوڑ اور خلاصہ کو جمع کر دیا گیا ہے" 


حج بیت اللہ کی ایک بڑی حکمت اور فلسفہ" اللہ کے حکم کی اطاعت" ہے 

           
           کوئی شخص جب اس فریضہ کی ادائیگی کا عزم کرتا ہے تو وہ پختہ عہد کرتا ہے احکام الہی کی بجا آوری اور فرمان خداوندی کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کا اور اسی وجہ سے اس راہ کی ہر مشقت و پریشانی کو خندہ پیشانی سے گوارہ کر لیتا ہے اور مکمل طور پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے، شعائر حج ابراہیم و اسماعیل علیهما السلام کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری سے عبارت ہے، اس کے پیشتر ارکان ان کی قربانیوں و جانفشانیوں کی یادگار ہیں، چنانچہ یہی جذبۂ اطاعت ان کی دعا میں مذکور و مطلوب ہے { رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ} [ البقره: ١٢٨] ' اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ' اسی دعائے ابراہیمی کا مصداق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت  بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اللہ رب العالمین کی اطاعت کی اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کا پابند و عمل پیرا بنایا۔


ایک فلسفہ' توحید کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا'

           
             یوں تو تمام شعائر اسلام میں وحدانیت کارفرما ہے لیکن حج توحید باری کے مظاہر کچھ زیادہ ہی دکھاتی ہے، اس کی کچھ جھلکیاں یوں ہیں

١ : اللہ عزوجل نے سورہ حج میں ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنائیں فرمایا:{ وَإِذْ بَوَّاْنَا لَإِبْرَاهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْئًا} [ الحج: ٢٦] 

٢:  الله رب العالمين نے بتوں کی ہر طرح کی گندگی سے دور رہنے کا حکم دیا اس لئے کہ مشرک اور بت پرستی کا عقیدہ ایک کینسر ہے فرمایا: { فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ } [ الحج: ٣] 

٣:  تلبیہ پکارنا جو ہر حاجی کا ترانہ ہوتا ہے جب حاجی اس سے رطب اللسان ہوتا ہے تو وہ ہر طرح کے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہے اور اپنے عقیدے کو پختہ بناتا ہے 

٤:  طواف کی دونوں رکعتوں میں بالترتیب سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص پڑھ کر شرک سے براءت اور اللہ عزوجل کی وحدانیت کے عہد کی تجدید کرتا ہے

٥:  عرفہ کے دن پڑھی جانے والی دعا  { لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير} [ الترغيب والترهيب: ٣/ ٣٤٥] 

٦:  'میں بھی حاجی ہوں ' کھلم کھلا اللہ رب العالمین کی وحدانیت کا اعلان کرتا ہے 


ایک فلسفہ 'اللہ کے شعائر کا احترام اور اس کی تعظیم' ہے

          
          اللہ رب العالمین نے سورہ حج کے سیاق میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم دیا فرمایا: { وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ} [ الحج: ٣٢] ' سنو! جو اللہ کی نشانیوں کی عزت و حرمت کرتا ہے، تو یہ اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے' اس آیت کریمہ میں واضح و عیاں ہے کہ اللہ رب العالمین کے دین کے شعار کا احترام تقوی کی ایک علامت ہے


حج کا ایک فلسفہ'اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا' ہے 

         
            دین اسلام کی روز اول سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ انسانی معاشرہ متحد و متفق ہوکر زندگی گزارے، اسلام ہمیشہ ان اسباب سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے جو انسانوں کو متفرق کو منتشر کر دیتے ہیں، اتحاد و اتفاق شعائر اسلام کا اولین سبق ہے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے جس سے حجاج کرام کو متحد ہونے کا ایک درس ملتا ہے کہ جس طرح لباس میں وحدت نمایاں ہے تو رضائے الہی کے لیے ہمارے دل و دماغ اور فکر و نظر کیوں نہ ایک و نیک ہوں 


حج کا ایک فلسفہ 'اسلام کا درس مساوات' ہے

         
          اسلام سارے نسل انسانی کو آدم کی اولاد قرار دیتا ہے  { والناس بنو آدم و خلق الله آدم من تراب} [ جامع الترمذی: ٣٢٧٠] دین اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اللہ رب العالمین کے پاس معزز ہونے کے لئے صرف تقوی معیار ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا لأبيض على اسود ولا لأسود على ابيض إلا بالتقوى} [ شعيب الأرنؤوط: ١٤٣٨] حج کی ادائیگی میں بلا تفریق (رنگ و نسل) سارے مسلمان جمع ہوتے ہیں ایسے موقع پر ہمیں سبق ملتا ہے کہ خاندانی امتیازات اور قبائلی اختصاصات کو مٹا کر پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے 


حج کا ایک بڑا فلسفہ 'انسانوں کے اندر تقوی پیدا کرنا' ہے

             قرآن کریم میں ارکان کے سیاق میں تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے، روزہ کی مشروعیت کے اختتام پر { لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ} [ البقره: ٨٣] مزید سورۃ البقرہ میں ہی حج کی افادیت اور اس کی مشروعیت کے تذکرے کے بعد فرمایا: { وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى} [ البقره: ١٩٧] مناسک حج کی ادائیگی میں حجاج کرام کو تقوی پیدا کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، دوران حج ہر طرح کے فسق و فجور، جنگ و جدال اور جرم و گناہ سے پرہیز و گریز کی خصوصی تاکید کی گئی ہے اور اسی کو حج مبرور قرار دیا گیا ہے فرمایا:{ من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه} [ صحيح البخاري:١٥٢١ ]


حج بیت اللہ کا ایک فلسفہ 'فکر آخرت' بھی ہے

           
            مطلق طور پر حج دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے میدان عرفات، مزدلفہ، منی جدھر بھی نگاہ دوڑائی جائے  تاحدِنگاہ انسانوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر نظر آئے گا، کفن کی سی یہ دو چادریں میدان محشر کا سماں پیدا کر دیتی ہیں، دھول و غبار سے اٹے ہوئے انسانوں کو قبر کے مراحل اور میدان حشر کی ہولناکیوں کو تازہ کر دینے کی دعوت دیتے ہیں جو درحقیقت فکر آخرت کا تازیانہ ہے


حج کا ایک بہت بڑا فلسفہ 'شیطان سے دشمنی پر استقامت' ہے

           
              قربانی جو ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کو اللہ عزوجل کی راہ میں ذبح کرنے کی یادگار ہے، اس راہ میں شیطان نے بار بار ابراہیم علیہ السلام کو بہکانا چاہا لیکن انھوں نے شیطان کی جدوجہد پر سنگ باری کے، چنانچہ رمی جمرات کے ذریعہ شیطان سے دشمنی کی تجدید کرتا ہے شیطان اس دن بہت ہی غمگین اور ذلیل ہوتا ہے۔

       یہ ہیں حج بیت اللہ کی چند حکمتیں اور اس کا فلسفہ لہذا: اللہ تعالی ہم سب کو حج کی حکمتوں کو سمجھنے اور اپنے دل کے نہاں خانوں میں اتارنے کی توفیق دے.  (آمین) 


             📝
   
           راضی

منگل، 11 مئی، 2021

تعلیم نسواں

      ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے، تعلیم ہی قوم کے احساس و شعور کو نکھارتی ہے، اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اور پھر تعلیم تو ہماری بنیادی ضرورت بھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان { إِقْرَأْ باِسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ} [ العلق: ٩٦/ ٢٩٧] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی: { طلب العلم فريضة على كل مسلم} [ معجم الاوسط: ٢/ ٢٩٧] اسی بنیادی نکتہ اور ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور اسی کو بنیاد سمجھ کر معاشرے کی تعمیر کا حکم دیتا ہے۔

تعلیم نسواں کی اہمیت

              کتاب و سنت میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علم انسان کو اعلی مقام پر فائز کر دیتا ہے، علم انسان کے اخلاق و کردار میں پاکیزگی، اخوت و محبت اور رحم و مروت کے جذبات پیدا کرتا ہے،
آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فوقیت علم ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی، اللہ عزوجل نے موسی علیہ السلام کو خضر کی جانب ان کی علمی فضیلت کی وجہ سے بھیجا، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی ہی وحی میں إِقْرَأْ کے ذریعہ علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کو صحابیات کے درمیان پہلا اور صحابہ کرام کے مابین چوتھا نمبر ان کی علمی لیاقت کی وجہ سے ملا، رابعہ بصری کی شہرت و عظمت کا سبب ان کی علمی لیاقت بنی، دور حاضر میں بھی دیکھا جائے تو آپ بہت سی ایسی عورتوں کو پائیں گے جو اپنی علمی و فنی لیاقت کی وجہ سے بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہیں،
           چنانچہ بقدرِ ضرورت تعلیم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو تعلیم کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا { من كان له جاريه وفعالها فأحسن إليها ثم أعتقها وتزوجها كان له أجران} [ صحيح البخاري: ٢٥٤٤] ' اگر کسی کے پاس کوئی لوڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس کی شادی کر دے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے'
لہذا تعلیم نسواں کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اتنی دلیلیں کافی ہے، پھر بھی اس دور میں تعلیم نسواں کا مسئلہ مختلف فیہ بنا ہوا ہے، ایک گروہ تو سرے سے ہی اس کی افادیت کا منکر ہے، تو دوسرا گروہ بغیر کسی پابندی کے عورتوں کو ہر قسم کی تعلیم دلانے کا طرفدار ہے ۔

تعلیم نسواں کے فوائد

       اس مسلمہ حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ عورتوں کی  وجہ سے ہی نسلوں کا مقدر سنورتا ہے اور قوم کی اصلاح ہوتی ہے، اور اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے،
شاعر کہتا ہے:
               وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ
               اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزدروں
انسان کی تعلیم و تربیت میں عورت کا بڑا ہی اہم کردار ہوتا ہے، کیونکہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں اس کی تعلیم و تربیت کی بنیاد پڑتی ہے جس پر اس کے مستقبل کی عمارت تعمیر ہوگی، اگر عورت تعلیم یافتہ ہے تو بچے شعور کی منزل تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں اور ایک اسلامی اور پرسکون ماحول میں پرورش پاتے ہیں، انہیں ان کے والدین بالخصوص ماں کی توجہ اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے، جو ہر قدم پر انہیں صحیح راستہ دکھاتی ہے، ان کے جائز خواہشات کا احترام کرتی ہے، انہیں صحیح اور غلط کا فرق بتاتی ہے، شوہر اور بچوں کے تئیں حقوق کی ادائیگی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے، ایسی صورتحال میں بچے ایک خوش کن ماحول میں پرورش پاتے ہیں اور پھر ایک مکمل انسان کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں،
اس کے برعکس اگر ماں کی تعلیم ہی ناقص ہو، وہ خود غیر تعلیم یافتہ، جاھل واجڈ ہو، تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس کے بچے کیسے ہوں گے؟
            اسی طرح جب تعلیم یافتہ عورتیں خاتون خانہ بن کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں تو خاندان کو غیر معمولی استحکام حاصل ہوتا ہے، اس لیے کہ عورت بیوی، ماں، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے گھر کی زینت ہوتی ہے، اسے"ربة البیت" کہا گیا ہے، اس کے کندھوں پر گھریلو امور کی ساری ذمہ داریاں ہوتی ہے،
اسی طرح تعلیم یافتہ عورتیں باظابطہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں، تعلیم یافتہ والدین کی اولاد بھی تعلیم یافتہ ہوتی ہے، تعلیم عورتوں کو نہ صرف روزگار میں بہتر مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ بہتر معیاری زندگی اور خوشحالی کا سامان بھی فراہم کرتی ہے ۔

تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر...

            تعلیم نسواں کے بہت سارے فوائد ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ نقصانات بھی سامنے آتے ہیں، لیکن ھاں! اگر میں یہ کہوں تو بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ یہ نقصانات بھی دراصل تعلیم حاصل کر لینے کی وجہ سے نہیں ہے، کیونکہ تعلیم بذات خود کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ہے، بلکہ تعلیم کا غلط اور بے جا استعمال عورتوں کو گمراہ کر رہا ہے
           دور جدید میں عورتوں نے تعلیم حاصل کرکے اپنے اوپر فیشن کا خول چڑھا لیا ہے، تو یہ ان کی اخلاقی کمزوری ہے، تعلیم حاصل کر لینے کی وجہ سے یہ نقصان ہرگز نہیں، تعلیم کے غلط استعمال نے آج عورتوں کو اس ذلیل مقام پر پہنچا دیا ہے کہ آج کل کی عورتوں کو دیکھ کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کی کوکھ سے پیغمبروں نے جنم لیا، جسے شرم و حیا کے پیکر کا خطاب دیا گیا، تعلیم کے غلط اور بے جا استعمال نے لڑکیوں کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ وہ یہاں کی صاف و شفاف اور پاکیزہ ہوا کو بھی آلودہ کر رہی ہیں، وہ یہ نہیں سوچتیں کہ وہ اپنے آپ کو ترقی کی جس راہ پر لے جا رہی ہیں وہ روشنی کا مینار نہیں بلکہ تاریکی کا عمیق گڑھا ہے،
خوب کہا ہے شاعر نے:
                وه اندھیرا ہی بھلا تھا کہ ہم راہ پہ تھے
                روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں محتاط نقطۂ نظر رکھنے والے مفکرین اور دانشوروں کا ماننا ہے کہ عورتوں کو بس واجبی تعلیم دینی چاہیے، جس سے وہ اپنے گھر، خاندان اور بچوں کی تربیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہٗ ادا کر سکیں، اس لیے کہ لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلانے کا ایک مہلک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ Qualified ( سند یافتہ) ہو جانے کے بعد ان میں غیر ضروری خود اعتمادی، خودمختاری اور انا پرستی کے عناصر گھر کر جاتے ہیں جو آگے چل کر ان کی پرسکون ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، 
کیونکہ ہر معاملے میں عورت اپنی رفیق حیات سے بر تر ہونے کی کوشش کرتی ہیں، انہیں ہر لمحہ اپنی تعلیم یافتہ ہونے کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر معاملہ میں برتری کی خواہاں ہوتی ہیں اور یہ چاہتی ہیں کہ ان کی ہر بات کو تسلیم کیا جائے اور نتیجے میں معاملہ دھیرے دھیرے گمبھیر  ہوتا چلا جاتا ہے پھر آخر کار طلاق کی نوبت آجاتی ہے، 
          جب کہ ہر صاحب عقل و دانش کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی حقیقی کامیابی اس کی پرسکون و خوشگوار ازدواجی زندگی ہے، چنانچہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے { الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوْا مِنْ أَمْوَالِهِمْ} [ النساء: ٤/ ٣٤] ' مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ وہ عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں' ۔ 

حرف آخر

            اسلام خواتین کی تعلیم کا نہ صرف حامی و طرفدار ہے بلکہ انہیں اس معاملہ میں مردوں سے کمتر بھی نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن ہاں! عورتوں کی تعلیم ان تمام حدود و قیود کے زیر سایہ میں رہ کر ہوگی جو اسلام نے ان کے لئے مقرر کیا ہے، انہیں شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا جائے گا اور نہ ہی انہیں عضو معطل سمجھ کر تعلیم سے محروم کر دیا جائے گا، بلکہ حالات اور معاشرے کی درپیش ضروریات کو سامنے رکھ کر ان کے لئے علیحدہ تعلیمی نظام بنایا جائے، مخلوط تعلیمی نظام کی وجہ سے عورتوں میں جو اخلاقی انحطاط و گراوٹ آرہی ہے اس کے لئے تعلیم نہیں بلکہ آزادانہ تعلیمی نظام ذمہ دار ہے. 
 

                 🖋
                 راضی 

جمعہ، 7 مئی، 2021

اصلاح معاشرہ کے بنیادی اصول

 اصلاح معاشرہ انسانی زندگی کی ڈاواں ڈول کشتی کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے ایک بہت ہی اہم ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف تنظیمیں، تحریکوں، مفکرین و مقررین، علماء، دانشورانِ قوم و ملت، اصلاحی اور سماجی خدمات پر مامور شخصیات کی تقریروں اور تحریکوں کا خلاصہ یہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کی صالحیت کو کس طرح برقرار رکھا جائے،
اس سلسلے میں ممبر و محراب سے لیکر اسٹیج تک، قرطاس و قلم سے لے کر اخبارات اور تصنیفات و تالیفات تک، ہر جگہ اصلاح معاشرہ پر زور دیا جا رہا ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی خاص اصلاح نظر نہیں آتا، اس لئے ضروری ہے کہ اگر ہم معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں ان تعلیمات اور اصولوں کو اختیار کرنا ہوگا جو قرآن و سنت میں وارد ہے، مزید اُس طریقے کو بھی اپنانا ہوگا جس پر چلتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی معاشرہ کی اصلاح کی تھی۔
قارئین کرام! تو آئیے اب ہم اصلاح معاشرہ کے چند بنیادی اصول پر نظر ڈالتے ہیں۔

1 :  اللہ واحد کی عبادت

                 توحید باری تعالیٰ کا صدق دل سے اقرار اور شرک سے براءت کا اظہار کرنا صالح معاشرہ کی پہلی اور سب سے اہم بنیادی ضرورت ہے، اسی بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز توحید باری تعالیٰ سے ہی کیا تھا جیسا کہ فرمایا: { قُولو لا إلٰه إلاّ الله تفلحوا} [ شعيب الأرنؤوط: ت ١٤٣٨] (إسناده صحیح) ' تم سب اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (یہ اقرار کر لو گے) تو تم سب کامیاب ہو جاؤ گے' 
سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 61 اور 63 میں اللہ رب العالمین نے اسی کی وضاحت فرمائی ہے کہ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس بات کو بھی دل سے تسلیم کیا جائے کہ معبود برحق صرف اللہ رب العالمین کی ذات ہے، تمام عبادتوں کے لائق وہی ہے اور ہر قسم کی عبادات اسی کے لئے حق ہے، نماز، روزہ، حج، زکوۃ، قربانی، نذر و نیاز، رکوع و سجود، استغاثہ، استعانت، امید و رجاء، خوف وخشیت، توکل، دعا، عاجزی و انکساری، عقیدت و محبت
الغرض یہ کہ تمام تر عبادات صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہونی چاہیے۔

2 : صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت

                    اسلامی معاشرہ کے افراد بحیثیت مسلمان اللہ تعالی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کریں اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کریں، تاکہ معاشرہ کی صالحیت و پاکیزگی برقرار رہے، اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: { يَآ أَيُّها الَّذِيْنَ آمَنُوْا أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا أَعْمَالَكُمْ} [ محمد ٤٧/ ٣٣] ' اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرو، اور اپنے اعمال کو ضائع مت کرو'
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:{ تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض} [ صحيح الجامع: ٢٩٣٧] ' میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہونگے، ایک ہے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) اور دوسری ہے میری سنت اور یہ دونوں کبھی جدا جدا نہیں ہوگی، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آجائیں گے،
لہذا آج بھی کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اس کی اصلاح ہو سکتی ہے، جب تک کہ اس میں بسنے والے تمام لوگ پورے اخلاص کے ساتھ کتاب و سنت کو اپنا دستور حیات نہ بنا لیں ۔

3 : اتحاد و اتفاق

               اسلامی معاشرہ کی اصلاح کے لئے ایک اہم ضرورت اتحاد و اتفاق بھی ہے کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی مسئلے میں تنازع ہو جائے تو وہ اسے کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں حل کریں، اور کتاب اللہ وسنت رسول کو اپنی زندگی سے کبھی مفقود نہ ہونے دیں، بلکہ اسی پر جم جائیں، اللہ تعالی فرماتا ہے: { وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ} [ آل عمران: ٣/ ١٠٣] ' تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور فرقوں میں مت بٹو، اور اپنے اوپر کی ہوئی اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی اور تم اس کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن گئے، اور( یاد کرو جب) جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا، اسی طرح اللہ رب العالمین تمہارے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پا جاؤ ۔
اور شاعر کا قول:
               متحد  ہو  تو  بدل  ڈالو  نظام  گلشن
               منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو  (اقبال)

4: تعاون اور خیر خواہی

کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کے لئے ایک اہم اور بنیادی سبب آپسی تعاون اور خیر خواہی بھی ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: { وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [ المائدة: ٥/ ٢] ' تم  نیکی اور تقوی کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو' 
چنانچہ اولین اسلامی معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کی نیکی اور تقوی کی بنیاد پر مدد کرنے لگے اور ایسی مدد کہ قیامت تک اس جیسی مثالیں پیش کرنا ممکن نہیں ہے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد الواحد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى} [ صحيح مسلم: ٢٥٨٦] ' مومنوں کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے، ایک دوسرے پر ترس کھانے، اور ایک دوسرے پر شفقت کرنے میں ایک جسم کے مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے لئے بخار  کے ساتھ تڑپ اٹھتا ہے اور اس کی وجہ سے بیدار رہتا ہے' 
اور دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  { المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته} [ صحيح البخاري : ٢٤٤٢]' مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے، وہ نہ تو اپنے مسلمان بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے حوالے کرتا ہے، اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ رب العالمین اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے' ۔

5: عفت و پاکدامنی 

اسلامی معاشرہ کی صالحیت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی عزت و عصمت کے محافظ ہوں، وہ کسی کی ماں، بہن، اور بیٹی کی طرف غلط نظروں سے نہ دیکھیں، بلکہ وہ ہر غیر محرم عورت سے اپنی نظریں جھکائے رکھیں، کیونکہ اللہ رب العالمین کا یہی حکم ہے: { قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ أَزْكَى لَهُمْ} [ النور: ٢٤/ ٣٠] ' آپ مومنوں کو حکم دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے' اسی طرح جو لوگ معاشرے کی صالحیت کو داغدار کرتے ہیں  ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید سناتے ہوئے اللہ عزوجل کا فرمان آیا : { إِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ أَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} [ النور: ٢٤/ ١٩] ' جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیل جائے ان کے لئے یقینا دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ رب العالمین کو سب کچھ معلوم ہے حالانکہ تم نہیں جانتے'

6: امر بالمعروف و نہی عن المنکر

 اصلاح معاشرہ کے لئے بنیادی اور اہم ضرورت امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا بھی ہے اور اس چیز کا ہمیں حکم بھی دیا گیا ہے، اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا: { كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ} [ آل عمران: ٣/ ١١٠] ' تم بہترین امت ہو، جسے لوگوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ' 
                اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے، تو ہمیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہوگا ۔
قارئین کرام ! اس کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں جو اصلاح معاشرہ کے لئے کارگر ہیں، جسے ہم نے مضمون کی طوالت کے ڈر سے تحریر نہیں کیا. 
 اخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیشہ ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے.
( آمین) 


       🖊
       راضی 

 

جمعہ، 30 اپریل، 2021

اسلام میں ماں کا مقام

 'ماں' ایک ایسے پاکیزہ رشتہ کا نام ہے جس کی عزت و عظمت، بزرگی و بڑائی دنیا کے ہر قوم و مذہب میں مسلّم ہے، ماں کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا سمندر ہے کہ جس میں ہر طرح کے رنج و غم چھپ جاتے ہیں، لیکن اس کی حقیقت صرف اتنی ہی نہیں بلکہ مذہب اسلام میں ماں کا ایک عظیم الشان مقام ہے،
 چنانچہ: والد ین کے حقوق کے ضمن میں ماں کی خدمت کو دخول جنت کا سبب اور اس کی نافرمانی، اس کے ساتھ   عدمِ مروّت کو دخولِ جہنم کا سبب قرار دیا گیا۔
  ع  :   کسی بیٹے سے جب ماں کی محبت روٹھ جاتی ہے
           جہنم  اس کا گھر  ہوتا ہے  جنت  روٹھ جاتی  ہے.
تو آئیے اب ہم جستہ جستہ طور پر ان کے مقام و مرتبہ کو کتاب و سنت کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماں کا مقام و مرتبہ قرآن کی روشنی میں

               اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:{ وَقَضَى ربُكَ أَلّا تَعبُدوا  إِلا إِيّاهُ وبِالوالدَينِ إِحسانا إِمّا يَبلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُما وَقُلْ لَهُما قَولاً كَرِيما وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ  ارْحَمْهُما كَما رَبَّيانِيْ صَغِيْرًا}  [ الإسراء :١٧ / ٢٣-٢٤]  اس آیت کریمہ میں  ماں باپ کے حوالے سے درجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں کہ : والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کیا جائے، ان کو ناراضگی سے 'أُف' بھی نہ کیا جائے، انہیں تادیبًا جھڑکا نہ جائے، ان سے ہمیشہ نرمی اور ادب و اخلاق سے بات کی جائے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں ان کے حق میں دعائے خیر کی جائے۔
         ایک دوسری آیت مبارکہ میں اللہ رب العالمین نے ماں کے احسان کو جتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: { وَوَصَيْنا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ إِحْسانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْهُ وَفصَالُهُ  ثَلٰثُونَ شَهْرًا} [ الأحقاف: ٤ /١٥] 'ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے (اب اللہ رب العالمین حسن سلوک کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں کہ) اس کی ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا، اور تکلیف برداشت کرتے ہوئے ان کو جنم دیا، اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے'
         اس مشقت اور تکلیف برداشت کرنے کا ذکر، والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں حکمِ احسان میں باپ سے مقدم ہے، کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف پھر وضع حمل کی تکلیف، صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے، اسی طرح رضاعت کی پریشانی بھی اکیلی ماں ہی برداشت کرتی ہے، باپ کی اس میں کوئی شرکت نہیں ہے، اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اوّلیت حاصل ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے۔
         اسی طریقے سے ماں باپ کے مقام کو اجاگر کرتے ہوئے دوسرے جگہ رب ذوالجلال کا فرمان آیا: { قُلْ تَعالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عََليْكُمْ أَلّا تُشْرِكوا بِهِ شَيْئًا وبِالْوالدَيْنِ إِحْسَانًا} [ انعام: ٦ /١٥١] ' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے کہ آؤ! میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر لازم قرار دیا ہے، وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو'
           قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر اور اس آیت کریمہ میں بھی اللہ رب العالمین کی توحید و اطاعت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا، جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اطاعت رب کے بعد، والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی اہمیت ہے، اگر کسی نے والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضے کو پورا نہیں کیا تو وہ رب ذوالجلال کی عبادت و اطاعت کے تقاضے کو بھی پورا کرنے میں ناکام رہے گا ۔
شاعر کہتا ہے :  خدمت کرکے جو  ماؤں سے دعا لیتے ہیں
                      گھر پہ وہ بیٹھ کے جنت کی ہوا لیتے ہیں

ماں کا مقام و مرتبہ احادیث کی روشنی میں

             ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان الله حرم عليكم عقوق الأمهات} [ صحيح البخاري: ٢٤٠٨] ' اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے'، ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا { يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي؟ قال: أمك، قال ثم من؟ قال: أمك، قال ثم من؟ قال: أمك، قال ثم من؟ قال: ثم أبوك} [ صحيح البخاري:٥٩٧١] ' اے اللہ کے رسول میری خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا : تمہاری ماں، اس شخص نے پھر سوال کیا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں، اس نے پھر سوال کیا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں، اس شخص نے جب چوتھی مرتبہ پوچھا پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ '
  • عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: { أي العمل أحب إلى الله؟ قال: الصلاه على وقتها، قال ثم أيّ؟ قال: برّ الوالدين، قال ثم أيّ؟ قال: الجهاد في سبيل الله} [ صحيح البخاري: ٥٩٧] 
'' کون سا عمل اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب ہیں؟ فرمایا: نماز کو اس کے صحیح وقت پر قائم کرنا، میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا، پھر پوچھا اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا' اور صحیح مسلم کی روایت: { رغم أنف، ثم رغم أنف، ثم رغم أنف، من یا رسول اللہ؟ من أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كلاهما فلم يدخل الجنه} [ صحيح مسلم:٢٥٥١] ' اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ذلیل و رسوا ہو) صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ کون اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا پھر وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوسکا' 
معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کر کے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنا سکتے ہیں، لیکن اگر ہم نے ان کو ناراض کردیا تو گویا کہ ہم اس طرح سے اللہ رب العالمین کو بھی ناراض کر رہے ہیں، اور جب اللہ تعالی ہم سے ناراض ہو جائے، تو ہم دنیا و آخرت دونوں جہاں میں نامراد رہیں گے، دنیا میں بھی ناکام اور آخرت میں بھی ہمارے لئے کوئی حصہ نہ ہوگا،
              اسلئےکہ ماں باپ کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے، ہر انسان کو ان کی نافرمانی سے بچنا چاہیے، کیونکہ اس کا انجام آخرت میں سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔
لہذا : ہر شخص کو چاہئے کہ وہ ان کی خدمت بجا لا کر اپنے آپ کو جنت کا حقدار بنا لے، اللہ عزوجل اپنی مقدس کتاب میں بارہا یہ تاکید فرمائی کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو، سختی کے ساتھ پیش نہ آؤ۔

لمحۂ فکریہ

             لیکن افسوس! کہ آج ہم اپنے معاشرے پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو بوڑھے والدین اپنے ناخلف اولاد کی وجہ سے زندگی سے موت بہتر کی صدا دیتے نظر آرہے ہیں، مغربی تہذیب و تمدن میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل بوڑھے اور محتاج والدین کو اپنی عیاشانہ زندگی میں رکاوٹ اور بوجھ سمجھتے ہوئے جس وقت گھروں سے نکال کر (Old house) اولڈ ہاؤس میں بھیج رہی ہوتی ہے اس وقت اسلام { وَوَصَيْنا إِلانْسانَ بِوالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصالُهُ فِيْ عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيْرُ} [ لقمان : ٣١/ ١٤] کا فرمان جاری کرکے ان بوڑھے اور محتاج والدین کو موقعِ غنیمت قرار دیتے ہوئے ان کی خدمت پر دنیا و آخرت کی بہتری اور جنت میں داخلے کی ضمانت لیتا ہے،
لیکن ان عیاشوں اور نافرمانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، اور ایسا کیوں نہ ہو جب معاشرہ بے حیائی اور بے غیرتی کی انتہا کو پہنچ چکا ہو، اور صورت حال یہ ہو کہ شاعر کے الفاظ "وہ کتے پال سکتے ہیں مگر ماں بوجھ لگتی ہے"  مختصراً یہ کہ معاشرے کے اندر ہونے والے مظالم بوڑھے اور کمزور والدین کے ساتھ ناقابل بیان ہیں، 
لہذا ضرورت ہے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کریں۔

خلاصۂ کلام

              ماں باپ کے ساتھ نیکی اور ان کی خدمت کے نتیجے میں اللہ رب العالمین دونوں جہان کی مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے، جیسا کہ ان تین آدمیوں کے ایک غار میں پھنس جانے کا واقعہ جسے امام بخاری نے بروایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے تین آدمی ایک غار میں پھنس گئے تھے، ان میں سے ایک وہ بھی تھا جس نے دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لئے ساری رات ماں کے پہلو میں کھڑے ہو کر گزار دی، مگر اپنے ماں کو جگانا گوارہ نہ کیا، تاکہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے،
اللہ رب العالمین اسی نیک عمل کی وجہ سے اسے اور اس کے ساتھیوں کو غار سے نجات دے دی۔
بجا فرمایا ہے کسی شاعر نے:
             ماں کے قدموں میں کوئی خار نہ چبھنے دینا
             اس کے نیچے تیری جنت ہے کھسک جائے گی
اخیر میں دعا ہے کہ ﷲ رب العالمین ہمیں والدین کا خدمت گزار بنائے.     (آمین)


            🖊
            راضی 

کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے

دیوالی کی مٹھائی سوال : کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے ؟ جواب : اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارک باد ...